باوقار بڑھاپا (بزرگوں کی نگہداشت)

چلنے کے لیے بہترین لاٹھی (Walking Stick) اور واکر کا انتخاب: صحیح اونچائی اور درست گرفت

بزرگوں اور سننے کے شوقین قارئین کے لیے قدرتی اردو آڈیو
چلنے کے لیے بہترین لاٹھی (Walking Stick) اور واکر کا انتخاب: صحیح اونچائی اور درست گرفت

غلط اونچائی یا غلط قسم کی چھڑی بزرگوں کی کمر ٹیڑھی کر سکتی ہے اور گرنے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ جانیے سنگل ٹپ، 4 ٹانگوں والی لاٹھی اور پہیوں والے واکر کا صحیح سائنسی انتخاب۔

چھڑی عیب نہیں بلکہ آزادی کا نشان ہے

اکثر بزرگ چھڑی پکڑنے سے اس لیے کتراتے ہیں کہ وہ خود کو بوڑھا اور لاچار ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں پیار سے سمجھائیں کہ چھڑی ان کی خود مختاری اور حفاظت کی ضامن ہے جو انہیں گھر میں قید ہونے سے بچا کر باہر چلنے پھرنے کی آزادی دیتی ہے۔

لاٹھی کی صحیح اونچائی کی پیمائش کیسے کریں؟

چھڑی کی لمبائی کا فارمولا:

  • بزرگ اپنے عام جوتے پہن کر سیدھے کھڑے ہوں اور ہاتھ قدرتی طور پر نیچے لٹکائیں۔
  • چھڑی کے دستے (Handle) کی اونچائی ان کی کلائی کے جوڑ (Wrist crease) کے بالکل برابر ہونی چاہیے۔
  • جب وہ چھڑی پکڑیں تو کہنی ہلکی سی (تقریباً 15 سے 20 ڈگری) مڑی ہونی چاہیے؛ اگر کہنی بالکل سیدھی ہو یا زیادہ مڑے تو چھڑی کا سائز غلط ہے۔

مختلف اقسام کی لاٹھیاں اور ان کا استعمال

ضرورت کے مطابق انتخاب کریں:

  • کواڈ کین (Quad Cane – چار پاؤں والی لاٹھی): ان بزرگوں کے لیے جن کا بیلنس زیادہ خراب ہو یا فالج کے بعد ٹانگ میں کمزوری ہو۔ یہ بغیر سہارے خود فرش پر کھڑی رہتی ہے۔
  • سنگل پوائنٹ اسٹک (Single Point Cane): ہلکی پھلکی کمزوری اور عام واک کے لیے۔
  • فولڈنگ کین (Folding Cane): سفر اور گاڑی میں لے جانے کے لیے بہترین۔
  • واکر یا رولیٹر (Walker with Wheels): ان افراد کے لیے جن سے بالکل وزن نہیں سہار جاتا اور دونوں ہاتھوں سے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔

چھڑی سے چلنے کا درست اصول

چھڑی کو ہمیشہ کمزور ٹانگ کے مخالف ہاتھ میں پکڑنا چاہیے! جب کمزور ٹانگ آگے بڑھے تو ساتھ ہی مخالف ہاتھ کی چھڑی آگے جانی چاہیے تاکہ وزن چھڑی اور ٹانگ پر تقسیم ہو سکے۔

یہ مفید معلومات شیئر کریں:
پچھلا مضمون بزرگوں کے لیے واش روم سیفٹی: ریلنگز، اینٹی... اگلا مضمون کمزور یا بستر پر موجود بزرگ والدین کو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے