شاعری ہب / غزل / تمہیں جب مجھ سے الفت ہی نہیں ہے

تمہیں جب مجھ سے الفت ہی نہیں ہے

Tumhein Jab Mujh se Ulfat hi Nahin Hai Ghazal Zaryoun

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تمہیں جب مجھ سے الفت ہی نہیں ہے

تو پھر مجھ سے یہ نفرت بھی فضول ہے!

ہمیں تم بھول جاؤ خوش دلی سے

ہمیں ہر فیصلے میں یہ قبول ہے!

ہماری ذات سے کیا واسطہ اب

جو کانٹا تھا وہ اب کھلتا گلاب ہے!

علیؔ خودداری کا پرچم اٹھاؤ

جہاں سچائی ہی سب کا اصول ہے!

Tumhein Jab Mujh Se Ulfat Hi Nahin Hai

To Phir Mujh Se Yeh Nafrat Bhi Fuzool Hai!

Humein Tum Bhool Jaao Khush-Dili Se

Humein Har Faisle Mein Yeh Qabool Hai!

Hamari Zaat Se Kya Waasta Ab

Jo Kaanta Tha Woh Ab Khilta Gulaab Hai!

Ali Khuddaari Ka Parcham Uthaao

Jahan Sacchayi Hi Sab Ka Usool Hai!

غزل Urdu
Comment
علی زریون
تعارفِ شاعر

علی زریون

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 نومبر 1978 📍 فیصل آباد / لاہور، پاکستان

علی زریون (پیدائش: 22 نومبر 1978ء، فیصل آباد، پنجاب) معاصر اردو اور پنجابی شاعری کے سب سے منفرد، فلسفیانہ، باغیانہ اور ہر دلعزیز لب و لہجے کے سرخیل مانے جاتے ہیں۔ ان کے کلام میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے