شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے

ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے

Hum Ne Har Daur mein Dil ko Tarsaaya Hai Miraji Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے میراؔ جی

محبت کے بدلے میں فقط تنہائی پائی ہے سدا!

ہم نے تو اپنے خوابوں کو سجایا تھا ترے لیے

پر زمانے نے ویرانی دکھائی ہے سدا!

میراؔ جی خاموش رہ کر ہی جیتے رہیں گے ہم

جس نے دل کے ہر درد کو گہرائی دی ہے سدا!

Hum Ne Har Daur Mein Dil Ko Tarsaaya Hai Miraji

Mohabbat Ke Badle Mein Faqat Tanhaayi Paayi Hai Sada!

Hum Ne To Apne Khwabon Ko Sajaya Tha Tere Liye

Par Zamane Ne Weeraani Dikhayi Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے