ہمارے شہر میں اب رات بھی نہیں ہوتی
Hamare Shehr mein Ab Raat bhi Nahin Hoti
ہمارے شہر میں اب رات بھی نہیں ہوتی
شمع جلتی ہے تو پروانہ نہیں ہوتا
اداس شام کے سائے میں بیٹھ کر ناصرؔ
کوئی بھی قصۂ ویرانہ نہیں ہوتا
ہمیں تو راس ہے اس دشت کی خموشی اب
کوئی بھی دل سے شناسائی کا فسانہ نہیں ہوتا
Hamare Shahr Mein Ab Raat Bhi Nahin Hoti
Shama Jalti Hai To Parwana Nahin Hota
Udaas Shaam Ke Saaye Mein Baith Kar Nasir
Koi Bhi Qissa-e-Weerana Nahin Hota
غزل
تعارفِ شاعر
ناصر کاظمی
سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...
