تعارف، تاریخ و دریافت
یہ بنیادی طور پر دو قسم کا ہوتا ہے اوسط درجہ کا پتھر ہے یہ اپنی برکات اور خواص کی وجہ سے امیر اور غریب میں مقبول ہے درجہ دوئم کے چھوٹے سائز میں پتھر موجود ہیں۔
احادیث شریف، روایات و تاریخی اہمیت
سحری خواص فیروزہ پہنے سے دل کو راحت، سکون اور تسکین حاصل ہوتی ہے، عجیب سا احساس تحفظ پیدا ہوتا ہے کراچی کے موجودہ حالات سے ذہنی طور پر پریشان ہونے والے افراد کے لیے بے حد نفع بخش ثابت ہوگا، یہ خوف ڈرکودور کرتا ہے راضی بہ رضا رہنے کی عادت پختہ کرتا ہے دشمنوں پر فتح یاب کرتا ہے حادثات ڈوبنے اور آسمانی بجلی سے بچاتا ہے زہر یلے جانوروں اور کیڑوں کو قریب آنے نہیں دیتا نظر بد سے محفوظ رکھتا ہے طالب علموں کے لیے خاص طور پر مفید ہے انہیں فیروزہ ایمیتھسٹ اور لا جور دکو مشقوں کے وقت خاص طور پر پہننا چاہیے کیونکہ یہ علم و ہنر سیکھنے میں بے حد معاون ہے روحانی علوم کے مبتدیوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے یہ ان کے لیے حصول علم میں حد درجہ معاون ہوگا ۔
ماہیت، اقسام اور درجات
کہا جاتا ہے کہ نیا چاند دیکھ کر مسنون دعائیں پڑھ کر فیروزہ پر نظر کرنے سے زر کثیر ہاتھ لگتا ہے یہ آفاقی اور ذاتی محبت اور علوم و فنون میں بے حد ترقی دیتا ہے حاملہ خواتین کو جملہ خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے علاوہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی فرد پر قضائے ناگہانی آنے والی ہو تو فیروزہ چیخ جاتا ہے یا بیچ میں سے دوٹکڑے ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اسے جتنی جلدی ہو سکے دریا یاسمندر میں پھینک دیں، صدقات، خیرات اور استغفار کی کثرت رکھیں، کم از کم مدت 40 دن تک ضرور استغفار اور خیرات کریں، چاہے سوار و پیر یا چند پیسے ہی کیوں نہ ہوں اگر انگوٹھی سے فیروزہ کا نگ نکل کر گر جائے تو بھی یہی عمل کرنا چاہیے اور اس کو سمندر برد یا دریا برد کردینا چاہیے، جن لوگوں کے کام ہوتے ہوتے رُک جائیں ان کو بڑے سائز کا فیروزہ پہننا چاہیئے میدان اسباب کوردکر دیتا ہے۔ بدھ مذہب میں یہ نہایت متبرک پتھر ہے ان کے یہاں روایت ہے کہ اگر نا معلوم اسباب کی وجہ سے بیماری اور پریشانیاں ہوں تو اس پتھر کو سینے سے کلی شفا کامیابی اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔
طبی و جسمانی شفا بخشی کے خواص
کہا جاتا ہے کہ نیا چاند دیکھ کر مسنون دعائیں پڑھ کر فیروزہ پر نظر کرنے سے زر کثیر ہاتھ لگتا ہے یہ آفاقی اور ذاتی محبت اور علوم و فنون میں بے حد ترقی دیتا ہے حاملہ خواتین کو جملہ خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے علاوہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی فرد پر قضائے ناگہانی آنے والی ہو تو فیروزہ چیخ جاتا ہے یا بیچ میں سے دوٹکڑے ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اسے جتنی جلدی ہو سکے دریا یاسمندر میں پھینک دیں، صدقات، خیرات اور استغفار کی کثرت رکھیں، کم از کم مدت 40 دن تک ضرور استغفار اور خیرات کریں، چاہے سوار و پیر یا چند پیسے ہی کیوں نہ ہوں اگر انگوٹھی سے فیروزہ کا نگ نکل کر گر جائے تو بھی یہی عمل کرنا چاہیے اور اس کو سمندر برد یا دریا برد کردینا چاہیے، جن لوگوں کے کام ہوتے ہوتے رُک جائیں ان کو بڑے سائز کا فیروزہ پہننا چاہیئے میدان اسباب کوردکر دیتا ہے۔ بدھ مذہب میں یہ نہایت متبرک پتھر ہے ان کے یہاں روایت ہے کہ اگر نا معلوم اسباب کی وجہ سے بیماری اور پریشانیاں ہوں تو اس پتھر کو سینے سے کلی شفا کامیابی اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔
پہننے کا شرعی و اصولی طریقہ
ضروری ہدایت: انگوٹھی پہننے سے قبل پتھر کو عرقِ گلاب یا پاک پانی سے دھو لیں اور باوضو ہو کر درود شریف پڑھتے ہوئے دائیں ہاتھ میں پہنیں۔