تعارف، تاریخ و دریافت
اوپل کا کیمیکل فارمولا در اصل سیلیکون ڈائی آکسائیڈ اور پانی کا مرکب ہے اس لیے یہ ان چند پتھروں میں شمار ہوتا ہے جو بالآ خر خشک ہو کر چٹک جاتا ہے اور رنگ تبدیل کرتا ہے۔ اگر اس کا رنگ تبدیل ہو تو سمجھ لیں کہ یہ لیبارٹری میں تیار شدہ فعلی اوپل ہے اس لیے اوپل وغیرہ جیسے پتھروں کیلئے ضروری ہے کہ روزانہ اسے کچھ دیر سادہ پانی میں یا نباتاتی پانی میں چھوڑ دیا جائے اور خشک کر کے استعمال کیا جائے۔ اوپل کی ساخت عام طور پر 6 درجہ لکھی جاتی ہے مگر چونکہ یہ مختلف چیزوں ( عناصر ) کا مجموعہ یعنی مرکب ہے اس لیے یہ ختی 6.5 درجہ سے لے کر 55 درجہ تک تبدیل ہو سکتی ہے، اس کی کثافت بہت کم ہوتی ہے اس کی دو بنیادی اقسام ہیں ایک نایاب پتھر جو کہ بلور کی طرح رنگ بکھیرتا ہے دوسری عام قسم جو ہمارے ملک میں ” سنگ دودھیا “ کے نام سے مشہور ہے اس کے علاوہ شیشہ اور ایک خاص سیپ سے کئی نفلی پتھر اوپل کے نام سے دنیا میں فروخت ہوتے ہیں۔ Latex Opel بھی لیبارٹری میں تیار ہوتا ہے جو نہ صرف قیمت کے لحاظ سے سنتا ہوتا ہے بلکہ کئی ظاہری وجوہات کی بنا پر اور بہترین اوپل کی مشابہت رکھنے کی وجہ سے تمام ملکوں میں اوپل کے ساتھ ہی فروخت ہوتا ہے چونکہ اوپل کو لیبارٹری میں تیار کرنا اصل اوپل کی کان کنی سے ستا پڑتا ہے اس لیے تمام دنیا میں بڑی تعداد میں نفلی اوپل مارکیٹ میں موجود ہوتا ہے۔
احادیث شریف، روایات و تاریخی اہمیت
حوا کا چہرہ اوپل کو قدیم تاریخ میں حوا کا چہرہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ حوا کی طرح اس کی بھی بے شمار قسمیں اور رنگ ہیں، حوا (عورت) کے موڈ کی طرح اس کی اکثر تمیں رنگت اور چمک تبدیل کرتی رہتی ہیں اوپل کے بے شمار رنگ ہیں تقریباً قوس قزح کے تمام رنگوں اور اس کے علاوہ بھی بے شمار شیڈ میں پایا جاتا ہے جن کا شمار کیا جانا مشکل ہے اس کا رنگ سفید دودھیا سے ملکے گرے تک سفید سے کالے رنگ تک زردی مائل سبز اور نجی اسکائی بلیؤ دھواں جیسا گرے مکمل سیاہ لال گلابی پیلا ہے رنگ ہو سکتا ہے اوپل ٹرانسپیرنٹ نان ٹرانسپیرنٹ اور سیمی ٹرانسپیرنٹ میں پایا جاتا ہے حتی کہ بلور کی طرح آب و تاب اور چمک دمک والا بھی مل جاتا ہے سب سے قیمتی مکمل سیاہ اوپل ہوتا ہے جبکہ نایاب اوپل بے رنگ ہوتا ہے۔
ماہیت، اقسام اور درجات
اوپل کے خواص شفا اوپل کو تمام امراض کا دافع قرار دیا گیا ہے اسے تمام بیماریوں کے حملوں کو روکنے والا پتھر کہا جاتا ہے، یہ آنکھ کی تمام بیماریوں کو ڈ ور کرتا ہے اور زخموں کو بھرتا ہے۔
سحری، روحانی و نجومی اثرات
اوپل کے خواص شفا اوپل کو تمام امراض کا دافع قرار دیا گیا ہے اسے تمام بیماریوں کے حملوں کو روکنے والا پتھر کہا جاتا ہے، یہ آنکھ کی تمام بیماریوں کو ڈ ور کرتا ہے اور زخموں کو بھرتا ہے۔
طبی و جسمانی شفا بخشی کے خواص
اوپل کے خواص شفا اوپل کو تمام امراض کا دافع قرار دیا گیا ہے اسے تمام بیماریوں کے حملوں کو روکنے والا پتھر کہا جاتا ہے، یہ آنکھ کی تمام بیماریوں کو ڈ ور کرتا ہے اور زخموں کو بھرتا ہے۔
مزید مشاہدات و مجربات
یہ عام صحت کا ضامن پتھر ہے خاص طور پر معدہ تلی اور پیٹ کی تمام بیماریوں سے شفا بخش ہے۔
اوپل سینے کے اندرونی اعضا تلی، معدہ اور پیٹ کو طاقتور بناتا ہے۔
خواص روحانی تاریخ میں نیلم اور ہیرے کے بعد سب سے زیادہ کہانیاں اوپل سے ہی منسوب ہے۔ 1829ء میں سر والٹر اسکاٹ نے ایک ناول میں اوپل کی برائی بیان کی تھی، مصنف کی زبر دست سائنسی شخصیت کے سبب لوگوں نے اس کہانی کو حقیقت سمجھ لیا اور اوپل کی حیثیت درجہ اول سے گر کر درجہ سوم میں پہنچ گئی پورے یورپ میں اس کا کوئی خریدار نہ رہا، تقریباً 20 برس تک اس پتھر کو منحوس سمجھا جاتا رہا، آخر جب انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ نے اپنے تاج میں سیاہ اوپل لگایا تب جا کر اوپل کی قیمت بحال ہونا شروع ہوئی۔
پہننے کا شرعی و اصولی طریقہ
ضروری ہدایت: انگوٹھی پہننے سے قبل پتھر کو عرقِ گلاب یا پاک پانی سے دھو لیں اور باوضو ہو کر درود شریف پڑھتے ہوئے دائیں ہاتھ میں پہنیں۔