۱. خاندانی پس منظر اور عیسائی مشنری سرگرمیاں
جوزف ایڈورڈ ایسٹس ۱۹۴۴ء میں امریکی ریاست اوہائیو میں ایک دیندار پروٹسٹنٹ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے اور ٹیکساس میں پلے بڑھے۔ ان کا خاندان عیسائی مذہب کی ترویج میں سرگرم تھا۔ جوزف نے پیانو اور موسیقی کے آلات کے کاروبار میں بڑی کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ چرچ میں ایک باقاعدہ مقرر، گلوکار اور بائبل کے مبلغ بن گئے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر عیسائی تبلیغی پروگرامز کی تیاری میں حصہ لیا اور عیسائیت کے دفاع کے لیے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔
۲. ایک مصری مسلمان سے ملاقات اور مباحثے کا منصوبہ
۱۹۹۱ء میں جوزف کے والد نے انہیں بتایا کہ وہ ایک مصری تاجر مسٹر محمد عبد الرحمن کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ جوزف کو جب معلوم ہوا کہ وہ شخص مسلمان ہے تو انہوں نے سخت تعصب کا اظہار کیا، کیونکہ ان کے ذہن میں میڈیا کے ذریعے یہ تصویر بیٹھی ہوئی تھی کہ مسلمان دہشت گرد اور بت پرست ہوتے ہیں جو صحرا میں اونٹ پر بیٹھ کر ریگستان میں گھومتے ہیں۔
جوزف نے اپنے والد سے کہا: "ٹھیک ہے، میں اس سے ملوں گا، لیکن اس شرط پر کہ ہم اسے عیسائی بنانے کی کوشش کریں گے۔” جوزف نے اپنے گلے میں صلیب ڈالی، بائبل بغل میں دبائی اور تیار ہو کر اس مصری تاجر سے ملاقات کے لیے پہنچے۔
۳. وہ ملاقات جس نے تمام مفروضے الٹ دیے
جب مسٹر محمد عبد الرحمن سامنے آئے تو وہ ایک نہایت نفیس، سلیقہ مند، پرسکون اور بااخلاق انسان تھے۔ جوزف نے ان سے بائبل، عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت اور گناہوں کے کفارے پر بحث شروع کی۔ لیکن ان کے تمام اعتراضات کے جواب میں محمد عبد الرحمن غصہ ہونے کے بجائے نہایت عاجزی اور مدلل انداز میں جواب دیتے رہے۔
کچھ ہی دنوں بعد ایک اور کیتھولک پادری (Father Peter) بھی جوزف کے گھر مہمان آ کر ٹھہرے۔ اب دسترخوان پر چار افراد تھے: جوزف (پروٹسٹنٹ مبلغ)، ان کے والد، ایک کیتھولک پادری، اور اکیلا مسلمان محمد عبد الرحمن۔ جب ان تینوں عیسائیوں نے اپنی اپنی بائبل کا موازنہ کیا، تو معلوم ہوا کہ کیتھولک بائبل میں ۷۳ کتابیں ہیں جبکہ پروٹسٹنٹ بائبل میں ۶۶ کتابیں ہیں، اور متن کے اندر سینکڑوں واضح تضادات موجود ہیں۔ اس کے برعکس محمد عبد الرحمن نے قرآنِ مجید پیش کیا جس کا ایک ہی عربی نسخہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کے پاس چودہ سو سال سے بغیر ایک زبر زیر کی تبدیلی کے محفوظ تھا۔
۴. قبولِ اسلام کا فیصلہ اور پورے خاندان کی تبدیلی
سب سے پہلے اس کیتھولک پادری نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ منظر دیکھ کر جوزف کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسی رات جوزف نے تنہائی میں سجدے میں گر کر دعا کی:
"اے میرے پیدا کرنے والے خدا! اگر تو ایک ہے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دے۔”
اگلی صبح جوزف نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں۔ اس کے چند ہی دنوں بعد ان کی اہلیہ نے اور پھر ان کے بوڑھے والد نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ جوزف نے اپنا نام **یوسف ایسٹس** رکھا۔
۵. دنیا بھر میں دعوتِ دین کی خدمات
قبولِ اسلام کے بعد شیخ یوسف ایسٹس نے اپنی زندگی کو اسلام کے تعارف کے لیے وقف کر دیا۔ وہ امریکی جیلوں، فوجی اڈوں اور یونیورسٹیوں میں اسلام کی دعوت دینے لگے اور لاکھوں امریکیوں تک اسلام کا پرامن پیغام پہنچایا۔ انہوں نے دنیا کا پہلا اسلامی انٹرنیٹ پورٹل "IslamTomorrow.com” اور بعد میں امریکی سیٹلائٹ چینل "GuideUS TV” قائم کیا۔ انہیں اسلامی دنیا میں "Funny Sheikh” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ انتہائی خوش طبعی اور دوستانہ انداز میں اسلام کی بنیادی توحید کو دلوں میں اتار دیتے ہیں۔