شوبز، فنکار و مفکرین یونانی آرتھوڈوکس عیسائیت (Greek Orthodox) ➔ نورِ اسلام 🌍 برطانیہ (London, United Kingdom)

یوسف اسلام (کیٹ اسٹیونز) — برطانیہ کے سپر اسٹار گلوکار جنہوں نے شہرت کی بلندی پر دنیا چھوڑ کر قرآن کو گلے لگایا

سابقہ نام: Steven Demetre Georgiou (Cat Stevens) • سالِ قبولِ اسلام: 1977ء (لندن، برطانیہ)
📷 متعلقہ تصویر کا گوشہ (شخصیت / یادگار لمحہ) یہاں جلد متعلقہ تاریخی تصویر یا خاکہ شائع کیا جائے گا

۱. شہرت، دولت اور اندرونی خلا

کیٹ اسٹیونز (اصل نام: اسٹیون ڈیمیٹری جارجیو) ۲۱ جولائی ۱۹۴۸ء کو لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد یونانی قبرصی اور والدہ سویڈش تھیں۔ نوعمری ہی میں ان کی موسیقی نے دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ۱۹۶۰ء اور ۷۰ء کی دہائی میں وہ دنیا کے مقبول ترین راک گلوکاروں میں شمار ہوئے، ان کے البمز کی کروڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں، اور وہ بے پناہ دولت اور شہرت کے مالک بن گئے۔ لیکن موسیقی کی دنیا کی پرتعیش پارٹیاں، منشیات اور دنیاوی چکاچوند ان کے دل کے اندرونی اضطراب کو مٹا نہ سکی۔

۲. سمندر میں ڈوبنے کا حادثہ اور خدا سے عہد

۱۹۷۶ء میں کیلیفورنیا کے مالیبو ساحل پر تیراکی کے دوران وہ اچانک سمندر کی طاقتور لہروں کے نرغے میں آ گئے اور ساحل سے دور گہرے سمندر میں بہہ گئے۔ ان کی تمام تر طاقت جواب دے گئی اور موت بالکل سامنے کھڑی تھی۔ اس آخری لمحے میں انہوں نے دل کی گہرائی سے پکارا:

"اے خدا! اگر تو نے مجھے بچا لیا، تو میں اپنی پوری زندگی صرف تیرے لیے وقف کر دوں گا!”

اسی لمحے سمندر کی ایک غیر متوقع لہر نے انہیں دھکیل کر محفوظ چٹانوں کے قریب لا پھینکا۔ وہ زندہ بچ گئے، اور وہ جانتے تھے کہ اب خدا کے سامنے کیے گئے وعدے کو نبھانے کا وقت آ گیا ہے۔

۳. قرآنِ مجید کا تحفہ اور فکری سکون

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد ان کے بڑے بھائی ڈیوڈ نے یروشلم (بیت المقدس) کا دورہ کیا۔ وہاں مسجدِ اقصی میں مسلمانوں کے پرسکون طرزِ عبادت کو دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے اور لندن واپسی پر اپنے بھائی کیٹ اسٹیونز کے لیے قرآنِ مجید کا ایک انگریزی ترجمہ بطور تحفہ لائے۔

کیٹ اسٹیونز نے جب قرآن کا مطالعہ شروع کیا تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ لکھتے ہیں: "میں بدھ مت، ہندومت، علمِ نجوم اور مغربی فلسفے کی خاک چھان چکا تھا لیکن کہیں بھی دل مطمئن نہیں ہوا تھا۔ جب میں نے قرآن کھولا تو میں نے دیکھا کہ یہ کتاب براہِ راست انسان سے مخاطب ہے: «ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ»۔ اس میں نہ کسی پادری کی اجارہ داری تھی اور نہ کوئی پراسرار دیومالائی کہانیاں۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں اور مرنے کے بعد میرا کیا بنے گا۔”

۴. کلمۂ طیبہ اور شوبز کو الوداع

۲۳ دسمبر ۱۹۷۷ء کو انہوں نے لندن کی مرکزی مسجد ریجنٹس پارک میں باضابطہ طور پر اسلام قبول کیا اور سورۃ یوسف کے خوبصورت قصے اور استقامت سے متاثر ہو کر اپنا اسلامی نام **یوسف اسلام** رکھا۔ انہوں نے دنیاوی موسیقی کی پرتعیش دنیا، رائلٹی کے بھاری چیک اور کنسرٹس کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی تمام تر توانائیاں اور دولت تعلیم اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔

۵. تعلیمی و فلاحی خدمات

یوسف اسلام نے ۱۹۸۳ء میں لندن میں برطانیہ کا پہلا باقاعدہ تسلیم شدہ اسلامی پرائمری اسکول "اسلامیہ پرائمری اسکول” قائم کیا، جس کے بعد انہوں نے متعدد سیکنڈری اسکولز اور تعلیمی ادارے بنائے۔ انہوں نے بوسنیا کی جنگ، کوسوو، عراق اور افریقی ممالک کے متاثرین کے لیے بین الاقوامی امدادی ادارہ "مسلم ایڈ” (Muslim Aid) اور بعد میں "اسمال کائنڈنیس” (Small Kindness) قائم کیا جس کے ذریعے لاکھوں یتیم بچوں کی کفالت کی گئی۔

۶. امن کا پیغام

یوسف اسلام کا کہنا ہے: "مغرب میں بہت سے لوگ اسلام کو سیاست اور منفی میڈیا پروپیگنڈے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ تعصب سے پاک ہو کر قرآن کو خود پڑھیں، تو انہیں معلوم ہوگا کہ اسلام انسان کو خدا سے جوڑنے اور مخلوق کی بے غرض خدمت کرنے کا نام ہے۔ سچی خوشی شہرت کے ڈھول بجانے میں نہیں بلکہ اپنے خالق کے آگے سجدہ ریز ہونے میں ہے۔”

📖 تمام نو مسلموں کی داستانیں ملاحظہ فرمائیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
نو مسلموں کے ایمان افروز واقعات • اردو کووریج

یوسف اسلام (کیٹ اسٹیونز) — برطانیہ کے سپر اسٹار گلوکار جنہوں نے شہرت کی بلندی پر دنیا چھوڑ کر قرآن کو گلے لگایا

"شوبز نے مجھے وہ سب کچھ دیا جس کا کوئی دنیا دار خواب دیکھ سکتا ہے: دولت، شہرت، محلات۔ لیکن میرے اندر کا انسان بھوکا تھا۔ جب میں نے قرآن پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری روح کی اصل غذا تو معرفتِ الٰہی تھی۔"

🌍 وطن: برطانیہ (London, United Kingdom) سابقہ عقیدہ: یونانی آرتھوڈوکس عیسائیت (Greek Orthodox) سال: 1977ء (لندن، برطانیہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com/reverts