۱. اعلیٰ تعلیمی و سفارتی کیریئر
ڈاکٹر ولفرائیڈ ہوفمین ۱۹۳۱ء میں جرمنی کے کیتھولک شہر اشافنبرگ میں پیدا ہوئے۔ وہ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔ انہوں نے میونخ یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ جرمن وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے اور ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۷ء تک برسلز میں شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (NATO) کے ڈائریکٹر آف انفارمیشن رہے۔ بعد ازاں انہوں نے الجزائر اور مراکش میں جرمنی کے باضابطہ سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
۲. الجزائر کی جنگ اور اسلامی صبر و کردار کا مشاہدہ
۱۹۶۰ء کی دہائی کے اوائل میں جب وہ الجزائر میں جرمن سفارت خانے میں تعینات تھے، الجزائر کی آزادی کی خونریز جنگ اپنے عروج پر تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ فرانسیسی افواج کے بدترین مظالم، قتلِ عام اور تشدد کے باوجود الجزائری مسلمانوں کے چہروں پر ایک غیر متزلزل صبر، وقار اور اللہ پر توکل تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ رمضان المبارک میں جب شدید جنگ چل رہی تھی، تب بھی مسلمان سخت بھوک پیاس میں روزے رکھ رہے تھے اور راتوں کو اپنے رب کے آگے گڑگڑا رہے تھے۔
ہوفمین نے سوچا: "وہ کون سا نظریہ ہے جو انسان کو موت کے دہانے پر بھی ایسا لازوال وقار اور اخلاقی عظمت عطا کرتا ہے؟”
۳. الحمراء کے محلات اور اسلامی فلسفے کا مطالعہ
اس کے بعد انہوں نے اسپین (اندلس) کے مسلم آثار، بالخصوص قصرِ الحمراء اور مسجدِ قرطبہ کی سیاحت کی۔ الحمراء کی دیواروں پر کنندہ قرآنی خطاطی اور کلمہ «لَا غَالِبَ إِلَّا اللهُ» (اللہ کے سوا کوئی غالب نہیں) نے ان کی سوچ کو نیا رخ دیا۔ انہوں نے فلسفہ اور بائبل کا عمیق مطالعہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ تثلیث کا عقیدہ انسانی عقل کے خلاف ایک خود ساختہ فلسفہ ہے جس کی بنیاد تاریخی تحریف پر رکھی گئی۔
جب انہوں نے قرآنِ مجید کی توحید کا مطالعہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ اسلام میں خدا اور انسان کے درمیان کسی پادری، وساطت یا قربانی کی ضرورت نہیں۔ ہر انسان اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے اور براہِ راست اپنے خالق سے رابطہ کر سکتا ہے۔
۴. اسلام کا باضابطہ اعلان اور یورپی میڈیا کا طوفان
۱۹۸۰ء میں ڈاکٹر ہوفمین نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور اپنا نام **مراد ہوفمین** رکھا۔ ان کا قبولِ اسلام جرمنی اور یورپی میڈیا میں ایک زلزلے کی طرح گونجا۔ نیٹو کے ایک حاضر سروس اعلیٰ ڈائریکٹر اور جرمن سفیر کا مسلمان ہو جانا یورپی اشرافیہ کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ میڈیا نے ان کے خلاف شدید مہم چلائی، لیکن ڈاکٹر ہوفمین چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ انہوں نے ۱۹۸۲ء میں فریضۂ حج ادا کیا اور واضح کیا کہ ایمان ان کے لیے کسی بھی سرکاری عہدے سے کہیں زیادہ عزیز ہے۔
۵. تصانیف اور فکری میراث
ڈاکٹر مراد ہوفمین نے متعدد فکری اور فلسفیانہ کتب تحریر کیں جنہوں نے مغربی دانشوروں کو اسلام کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا:
- Islam: The Alternative (اسلام: ایک متبادل): جس میں انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ مغربی سرمایہ دارانہ اور سوشلسٹ نظام کی ناکامی کے بعد اسلام ہی انسانیت کا واحد پائیدار متبادل ہے۔
- A Journey to Makkah: ان کے سفرِ حج اور حرمین شریفین کے روحانی مشاہدات۔
- Diary of a German Muslim: ایک مغربی مسلم دانشور کے روزمرہ فکری تجربات۔
۶. دنیا کے لیے پیغام
ڈاکٹر ہوفمین کا کہنا تھا: "اسلام کو جاننے کے لیے میڈیا کے متعصب پروپیگنڈے پر بھروسہ مت کرو۔ اسلام ایک ایسی ندی ہے جس کا پانی جتنا صاف اور ٹھنڈا ہے، اتنا ہی زندگی بخش ہے۔ جس نے اس چشمے سے ایک بار پیاس بجھا لی، وہ دنیا کے کسی گندے جوہڑ کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھتا۔”