۱. ایک نڈر برطانوی صحافی کا خطرناک مشن
ایوان رڈلی ۱۹۵۸ء میں انگلینڈ کی کاؤنٹی ڈرہم میں پیدا ہوئیں۔ وہ برطانیہ کے معروف اخبار "سنڈے ایکسپریس” (Sunday Express) کی چیف رپورٹر تھیں اور برطانوی میڈیا انڈسٹری میں ایک نڈر، بے باک اور سرکش صحافی کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات (نائن الیون) کے فوراً بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کی تیاری شروع کی تو ایوان رڈلی نے بغیر ویزا اور پاسپورٹ کے برقع پہن کر گدھا گاڑی پر خفیہ طور پر پاکستان کی سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہونے کا خطرناک فیصلہ کیا تاکہ وہ طالبان کے زیرِ اثر افغانستان کے اندرونی حالات پر رپورٹنگ کر سکیں۔
۲. گرفتاری اور قید کے دن
افغانستان کے اندر دورانِ سفر جب ان کا گدھا بپھر گیا اور ان کا کیمرہ باہر گر پڑا، تو طالبان فورسز نے انہیں مشکوک جان کر گرفتار کر لیا۔ ایوان رڈلی کا خیال تھا کہ اب انہیں قتل کر دیا جائے گا یا بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔ وہ خوف اور شدید غصے میں مبتلا تھیں۔ انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کی، عملے پر چیخیں اور برتن پھینکے۔ لیکن ان کے سخت رویے کے باوجود افغان قید خانے کے گارڈز نے ان کے ساتھ انتہائی باوقار اور محتاط سلوک کیا اور کسی نے ان کی طرف بری نظر سے نہیں دیکھا۔
رہائی سے چند دن قبل ایک طالبان عالم ان کے پاس آئے اور پوچھا: "کیا آپ اسلام قبول کرنا چاہتی ہیں؟” ایوان رڈلی نے غصے سے انکار کیا۔ عالم نے مسکرا کر کہا: "کوئی بات نہیں، اسلام میں زبردستی نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ وعدہ کرتی ہیں کہ رہائی کے بعد آپ اپنی آزاد مرضی سے قرآن کا مطالعہ کریں گی؟” ایوان رڈلی نے جان چھڑانے کے لیے جلدی سے ہاں کہہ دی۔
۳. لندن واپسی اور وعدے کی پاسداری
۱۱ دن کی قید کے بعد طالبان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایوان رڈلی کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیا اور وہ بحفاظت لندن پہنچ گئیں۔ وہ ایک ہیرو بن چکی تھیں، اخبارات نے ان کے انٹرویوز شائع کیے اور انہوں نے اپنی کتاب "In the Hands of the Taliban” لکھی۔
لیکن قید خانے میں کیا گیا وعدہ ان کے ضمیر پر دستک دیتا رہا۔ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک سچی صحافی ہیں، اس لیے انہیں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے قرآنِ مجید کا انگریزی ترجمہ خریدا اور اس کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ قرآن پڑھ کر مسلمانوں کے خلاف دلائل جمع کریں گی۔
۴. وہ لمحہ جب تمام شکوک تحلیل ہو گئے
جوں جوں وہ قرآن کا مطالعہ کرتی گئیں، ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے پایا کہ مغرب میں اسلام اور بالخصوص مسلم خواتین کے متعلق جو تصویر پیش کی جاتی ہے، وہ قرآن کی تعلیمات کے ۱۸۰ ڈگری برعکس ہے۔
وہ لکھتی ہیں: "میں ایک مغربی فیمنسٹ (حقوقِ نسواں کی حامی) تھی اور سمجھتی تھی کہ اسلام نے عورت کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ لیکن جب میں نے سورۃ النساء، سورۃ مریم اور سورۃ النور کا مطالعہ کیا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ چودہ سو سال قبل جب مغرب عورت کو شوہر کی نجی جائیداد سمجھتا تھا اور اسے اپنے نام پر بینک اکاؤنٹ یا زمین رکھنے کا حق نہیں تھا، اسلام نے عورت کو حقِ وراثت، مہر کی ملکیت، نکاح میں رضامندی، خلع و طلاق کا حق اور معاشرتی تکریم عطا کر رکھی تھی۔”
۵. ستمبر ۲۰۰۳ء: دائرۂ اسلام میں داخلہ
دو سال کے عمیق مطالعے، تحقیق اور اندرونی جدوجہد کے بعد جون ۲۰۰۳ء میں ایوان رڈلی نے کلمہ شہادت پڑھ کر باضابطہ طور پر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اسلامی حجاب اختیار کیا اور اعلان کیا کہ حجاب عورت کے لیے قید نہیں بلکہ معاشرے کی آلودہ نظروں سے آزادی اور وقار کا تاج ہے۔
۶. مغرب کی خواتین کے نام پیغام
مریم ایوان رڈلی کا کہنا ہے: "مغربی معاشرہ عورت کو حسن اور جسم کی نمائش کا کھلونا بناتا ہے جبکہ اسلام عورت کو اس کے تقویٰ، کردار اور عقل کی بنیاد پر عزت دیتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں، اور میں دنیا کی ہر باوقار خاتون کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ اسلام کو پروپیگنڈے کی گرد سے الگ کر کے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔”