۱. ابتدائی تعارف اور میڈیکل فیلڈ میں اعلیٰ مقام
ڈاکٹر مورس بوکائے (Dr. Maurice Bucaille) ۱۹ جولائی ۱۹۲۰ء کو فرانس کے علاقے پونٹ لیویک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے طب و جراحت کی تعلیم حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر فرانس کے ممتاز ترین سرجنز کی فہرست میں شامل ہوئے۔ وہ فرانس کی قومی اکیڈمی برائے طب (French National Academy of Medicine) کے معزز رکن تھے اور پیرس کے متعدد اعلیٰ طبی اداروں کے سربراہ رہے۔ وہ اس وقت کے فرانسیسی صدر فرانکو مِتراں اور سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید کے نجی معالج کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
۲. تاریخی تحقیق: فرعون کی ممی کا معائنہ
۱۹۷۵ء میں جب مصر کے مشہور فرعون منفتاح (Merneptah – جس کے متعلق گمان ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون تھا) کی ممی گلنے سڑنے کے خطرے سے دوچار ہوئی تو فرانسیسی حکومت کی درخواست پر مصر کی حکومت نے ممی کو خصوصی سائنسی علاج اور تحقیق کے لیے پیرس کے فرانزک لیبارٹری میں منتقل کیا۔ ڈاکٹر مورس بوکائے کو اس بین الاقوامی فرانزک و میڈیکل ریسرچ ٹیم کا سربراہ نامزد کیا گیا۔
جدید ترین ایکسرے، اینڈوسکوپی اور بائیوپسی ٹیسٹوں کے دوران ڈاکٹر بوکائے نے دریافت کیا کہ فرعون کی ہڈیوں کے جوڑوں پر شدید دباؤ تھا، پھیپھڑوں میں پانی اور لاش کے ریشوں میں سمندری نمکیات کی غیر معمولی مقدار موجود تھی۔ اس سے یہ حتمی طبی نتیجہ اخذ ہوا کہ اس شخص کی موت سمندر میں ڈوبنے سے ہوئی تھی، اور ڈوبنے کے فوراً بعد اس کی لاش کو پانی سے نکال کر حنوط (Mummify) کر دیا گیا تھا۔
۳. قرآنی انکشاف جس نے ذہن کو جھنجھوڑ دیا
ڈاکٹر بوکائے جب اپنی اس دریافت پر پرجوش تھے تو ایک مسلمان ریسرچر نے ان سے ذکر کیا کہ قرآنِ مجید میں فرعون کے ڈوبنے کے بعد اس کے جسم کے محفوظ کیے جانے کا واضح تذکرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر بوکائے کو شدید حیرت ہوئی کیونکہ تورات اور انجیل میں فرعون کے سمندر میں غرق ہونے کا ذکر تو ملتا ہے لیکن اس کی لاش کے بچائے جانے اور بعد کی نسلوں کے لیے محفوظ رہنے کا کوئی ذکر نہیں، اور فرعون کی یہ ممی تو ۱۸۹۸ء میں جا کر بحرِ احمر کے قریب دریافت ہوئی تھی۔
جب انہوں نے قرآنِ مجید کے فرانسیسی ترجمے میں سورۃ یونس کی آیات کا مطالعہ کیا تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی:
«فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ»
"پس آج کے دن ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی بنے، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔” (سورۃ یونس: ۹۲)
ڈاکٹر مورس بوکائے سکتے کے عالم میں آ گئے۔ چودہ سو سال قبل محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس نہ تو بحیرہ قلزم میں غوطہ خوری کا کوئی سامان تھا اور نہ ہی فرعون کی گمشدہ ممیوں کا علم۔ یہ بات کسی انسانی دماغ کی پیداوار نہیں ہو سکتی تھی بلکہ کائنات کے خالق ہی کی جانب سے دی گئی حتمی خبر تھی۔
۴. عربی زبان سیکھنا اور کتبِ مقدسہ کا تقابلی جائزہ
اس تاریخی واقعے نے ڈاکٹر بوکائے کی زندگی کا رُخ بدل دیا۔ انہوں نے قرآنِ مجید کو اس کی اصل زبان میں سمجھنے کے لیے ۵۰ سال سے زائد کی عمر میں عربی زبان باقاعدہ سیکھنا شروع کی اور چند سالوں میں عربی پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ انہوں نے بائبل کے قدیم و جدید نسخوں اور قرآنِ مجید کا علمِ فلکیات، جنینیات (Embryology)، ارضیات، اور طبی علوم کی روشنی میں گہرا تقابلی تجزیہ کیا۔
اس تحقیق کا نتیجہ ان کی شہرۂ آفاق کتاب **”بائبل، قرآن اور سائنس” (The Bible, The Qur’an and Science)** کی صورت میں سامنے آیا، جو ۱۹۷۶ء میں شائع ہوئی اور دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو کر لاکھوں انسانوں کے قبولِ اسلام کا سبب بنی۔
۵. کلمۂ توحید اور بین الاقوامی گواہی
ڈاکٹر مورس بوکائے نے کھل کر اعتراف کیا کہ قرآنِ مجید میں سائنسی حقائق کے متعلق ایک بھی غلطی موجود نہیں جبکہ انسانی ہاتھ سے ترمیم شدہ قدیم کتابوں میں سائنسی متضادات کی بھرمار ہے۔ انہوں نے خلوصِ دل سے اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان لاتے ہوئے کلمہ طیبہ پڑھا اور اعلان کیا کہ قرآنِ مجید بلا شبہ اللہ کی سچی اور لاریب کتاب ہے۔
۶. مفکرین کے نام پیغام
ڈاکٹر مورس بوکائے کا واضح پیغام تھا: "علم اور سائنس کا مذہب سے کوئی تصادم نہیں بشرطیکہ وہ مذہب سچا ہو۔ اسلام ہی دنیا کا واحد مذہب ہے جو عقل، مشاہدے اور تحقیق کو ایمان کی بنیاد بناتا ہے۔ جس شخص کے پاس غیر جانبدار سائنسی عقل ہے، وہ قرآن کے آگے سر جھکائے بغیر نہیں رہ سکتا۔”