۱. خاندانی پس منظر اور ابتدائی فکری تشکیک
علامہ محمد اسد ۲ جولائی ۱۹۰۰ء کو موجودہ یوکرین (اس وقت کی آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے شہر لیوو) میں ایک ممتاز اور تعلیم یافتہ یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام لیوپولڈ وائس (Leopold Weiss) تھا۔ ان کے دادا ایک معزز یہودی ربی (مذہبی عالم) تھے اور ان کے والد ایک وکیل تھے۔ خاندان کی خواہش تھی کہ لیوپولڈ بھی یہودی شریعت اور تورات و تلمود کی تعلیم حاصل کر کے مذہبی پیشوا بنیں، چنانچہ انہوں نے عبرانی زبان، تلمود اور تورات کی قدیم تفاسیر کا گہرا مطالعہ کیا۔ تاہم نوعمری ہی میں ان کے حساس ذہن میں عیسائیت اور یہودیت کی الہیاتی پیچیدگیوں، نسلی برتری کے تصور اور جدید یورپ کی بے روح مادیت کے خلاف گہرے سوالات نے جنم لیا۔
۲. مشرقِ وسطیٰ کا سفر اور اسلامی معاشرت کا مشاہدہ
پہلی جنگِ عظیم کے بعد لیوپولڈ وائس نے جرمنی اور آسٹریا کے اخبارات بالخصوص جرمنی کے مشہور ترین اخبار "فرانکفرٹر سائٹونگ” (Frankfurter Zeitung) کے خصوصی نامہ نگار کی حیثیت سے مشرقِ وسطیٰ، مصر، فلسطین، شام، عراق اور ایران کا طویل سفر کیا۔ اس سفر کا مقصد یورپی قارئین کے لیے عرب دنیا کی سیاسی صورتِ حال پر مضامین لکھنا تھا۔ لیکن اس سفر نے ان کے باطن کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مغربی انسان مادی آسائشوں کے انبار کے باوجود اندرونی اضطراب اور روحانی خلا کا شکار ہے، جبکہ مشرق کے سادہ مسلمان انتہائی کم وسائل میں بھی ایک گہرے اندرونی سکون، باہمی احترام، باوقار توکل اور روحانی پاکیزگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
۳. وہ فیصلہ کن لمحہ: برلن کی زیرِ زمین میٹرو اور سورۃ التکاثر
۱۹۲۶ء کے موسمِ خزاں میں لیوپولڈ وائس اپنی اہلیہ کے ہمراہ برلن واپس آئے۔ ایک دن وہ برلن کی زیرِ زمین سب وے (Subway Train) کے فرسٹ کلاس ڈبے میں سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے خوشحال، مہنگے ملبوسات میں ملبوس مغربی مردوں اور عورتوں کے چہروں کو غور سے دیکھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان خوشحال لوگوں کے چہروں پر ایک عجیب بے چینی، ویرانی، اور لایعنی دوڑ کا خوف طاری تھا۔ کسی کے چہرے پر اطمینان کا کوئی نشان نہیں تھا۔
گھر واپس آ کر جب انہوں نے میز پر رکھی ہوئی قرآن مجید کی ایک نقل کھولی تو ان کی نظر سورۃ التکاثر کی ابتدائی آیات پر پڑی:
«أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ»
"تمہیں کثرتِ مال کی ہوس نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے۔” (سورۃ التکاثر: ۱-۳)
یہ آیات پڑھتے ہی لیوپولڈ وائس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے لکھا: "یہ الفاظ انسانی کلام ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ چودہ سو سال قبل ریگستانِ عرب میں اترنے والی کتاب بیسویں صدی کے جدید ترین صنعتی معاشرے کی سب سے بڑی روحانی بیماری کا ایسا جامع اور کاٹ دار نسخہ پیش کر رہی تھی جس نے مجھ پر سچائی کو پوری طرح آشکار کر دیا۔”
۴. کلمۂ شہادت اور اپنوں کا بائیکاٹ
اس واقعے کے چند ہی دن بعد لیوپولڈ وائس نے برلن کی مرکزی مسجد کے امام کے پاس جا کر دینِ حق کی گواہی دی اور اپنا اسلامی نام **محمد اسد** رکھا۔ ان کی اہلیہ نے بھی صدقِ دل سے اسلام قبول کیا۔ جب محمد اسد کے والد کو خط کے ذریعے ان کے قبولِ اسلام کا علم ہوا تو انہوں نے سخت صدمے کا اظہار کیا اور زندگی بھر کے لیے اپنے بیٹے سے تعلقات توڑ لیے، حتیٰ کہ مرتے دم تک محمد اسد کے خطوط کے جوابات بھی نہ دیے۔ لیکن محمد اسد نے اس عظیم فکری و روحانی قربانی کے بدلے میں جو ابدی سکون پایا تھا، وہ دنیا کی ہر آزمائش سے کہیں بڑھ کر تھا۔
۵. اسلامی دنیا میں خدمات، پاکستان سے تعلق اور تصانیف
قبولِ اسلام کے بعد محمد اسد نے تقریباً چھ سال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں گزارے، جہاں انہوں نے عربی زبان و ادب، فقہ، حدیث اور اسلامی تاریخ پر کامل عبور حاصل کیا۔ وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے انتہائی قریبی معتمد بنے۔ اس کے بعد وہ علامہ اقبالؒ کے مشورے پر برصغیر پاک و ہند تشریف لائے۔ علامہ اقبالؒ ان کے فہمِ اسلام کے بے حد معترف تھے اور انہوں نے محمد اسد کو پنجاب کے علمی حلقوں میں اہم مقام دیا۔
۱۹۴۷ء میں جب مملکتِ خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو محمد اسد کو پاکستان کی پہلی شہریت دی گئی اور انہیں نوتشکیل شدہ محکمۂ اسلامی تعمیرِ نو (Department of Islamic Reconstruction) کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں حکومتِ پاکستان نے انہیں اقوامِ متحدہ (United Nations) میں پاکستان کا پہلا باضابطہ سفیر اور وزیرِ مختار بنا کر نیویارک بھیجا۔
علامہ محمد اسد نے امتِ مسلمہ کو وہ یادگار کتب عطا کیں جو آج بھی دنیا بھر میں اسلام کی فکری ترجمانی کا مینارِ نور ہیں:
- شاہراہِ مکہ (The Road to Mecca): ان کی شہرۂ آفاق خود نوشت، جسے دنیا کی بہترین سوانحی کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔
- دی میسج آف دی قرآن (The Message of The Qur’an): قرآنِ مجید کی فکری و عقلی تفسیر اور انگریزی ترجمہ، جسے جدید تعلیم یافتہ ذہن کے لیے اکسیر قرار دیا گیا۔
- اسلام دوراہے پر (Islam at the Crossroads): امتِ مسلمہ کو مغربی فکری غلامی کے خطرات سے آگاہ کرنے والی لازوال کتاب۔
۶. حق کے متلاشیوں کے نام پیغام
علامہ محمد اسد کا فرمانا تھا: "اسلام کو مسلمانوں کے موجودہ کمزور اعمال کی بنیاد پر مت پرکھو، بلکہ اسلام کو اس کے خالص، درخشاں اور ابدی سرچشمے یعنی قرآنِ مجید اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں سمجھو۔ اسلام انسان کو اپنے خالق سے جوڑ کر ایسی اندرونی آزادی اور وقار عطا کرتا ہے جس کا نعم البدل روئے زمین پر کوئی دوسرا نظریہ نہیں ہو سکتا۔”