سائنس دان و محققین دہریت و الحاد (Atheism - سابق کیتھولک) ➔ نورِ اسلام 🌍 ریاستہائے متحدہ امریکہ (University of Kansas)

پروفیسر جیفری لینگ — ریاضی کے امریکی پروفیسر جو ۱۸ سال الحاد میں رہنے کے بعد قرآن کے سجدے میں گر پڑے

سابقہ نام: Jeffrey Lang (جیفری لینگ) • سالِ قبولِ اسلام: 1982ء (سان فرانسسکو، امریکہ)
📷 متعلقہ تصویر کا گوشہ (شخصیت / یادگار لمحہ) یہاں جلد متعلقہ تاریخی تصویر یا خاکہ شائع کیا جائے گا

۱. ابتدائی زندگی اور دہریت کا انتخاب

پروفیسر جیفری لینگ ۳۰ جنوری ۱۹۵۴ء کو امریکہ کے شہر کنیکٹیکٹ میں ایک کٹڑ رومن کیتھولک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کیتھولک اسکولوں میں ہوئی۔ نوعمری میں جب ان کے ذہن میں دنیا میں دکھوں اور برائیوں کی موجودگی، گناہِ ازلی (Original Sin) اور تثلیث کے غیر منطقی تصور کے متعلق سوالات اٹھے تو ان کے اساتذہ اور پادریوں نے انہیں تسلی بخش جواب دینے کے بجائے ڈانٹ کر خاموش کرا دیا کہ "مذہب پر عقل نہیں بلکہ اندھا ایمان لانا چاہیے۔”

اس فکری تضاد کے نتیجے میں ۱۸ سال کی عمر میں انہوں نے خدا کے وجود کا انکار کر دیا اور مکمل دہریہ (Atheist) بن گئے۔ انہوں نے ریاضی (Mathematics) میں اعلیٰ ترین ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور امریکی یونیورسٹیوں میں تدریس کا آغاز کیا۔ لیکن دل کی گہرائیوں میں زندگی کے مقصد اور کائنات کی سچائی کی تلاش کی پیاس بدستور برقرار تھی۔

۲. قرآنِ مجید کا تحفہ اور فکری مقابلہ

۱۹۸۰ء کی دہائی میں جب وہ سان فرانسسکو یونیورسٹی میں ریاضی کے اسسٹنٹ پروفیسر تھے تو ان کی کلاس میں چند سعودی مسلمان طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ ان طلبہ کے سنجیدہ رویے اور پرسکون اخلاق سے متاثر ہو کر ان کے درمیان علمی گفتگو کا آغاز ہوا۔ طلبہ کے ایک رشتہ دار نے پروفیسر لینگ کو قرآنِ مجید کا ایک انگریزی ترجمہ ہدیہ کیا۔

پروفیسر لینگ نے قرآن کو اس ارادے سے کھولا کہ وہ ایک ماہرِ ریاضی اور نقاد کی حیثیت سے اس کتاب میں منطقی غلطیاں اور کمزوریاں تلاش کریں گے۔ لیکن جوں جوں وہ صفحات پلٹتے گئے، ان کے ہوش اڑتے گئے۔

۳. سورۃ البقرہ اور تخلیقِ انسان کا معمّہ

پروفیسر لینگ کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اگر خدا رحیم ہے تو اس نے انسان کو اس زمین پر دکھوں، بیماریوں اور آزمائشوں میں کیوں ڈالا؟ جب انہوں نے سورۃ البقرہ کی آیات ۳۰ تا ۳۸ کا مطالعہ کیا جہاں فرشتوں نے اللہ سے سوال کیا تھا:

«قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ»
"فرشتوں نے عرض کیا: کیا تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے اور خون بہائے؟ جبکہ ہم تیری تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ فرمایا: بے شک میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔” (سورۃ البقرہ: ۳۰)

پروفیسر لینگ لکھتے ہیں: "یہ وہ سوال تھا جو میری روح میں سالہا سال سے کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔ دنیا کے کسی مذہب کی کتاب میں فرشتوں کو یہ اعتراض کرتے نہیں دکھایا گیا، لیکن قرآن نے میرے سب سے بڑے شبہے کو اٹھایا اور پھر آدم کو ناموں کا علم سکھا کر بتایا کہ زمین انسان کے لیے کوئی سزا کی جگہ نہیں بلکہ ایک روحانی تربیت گاہ ہے جہاں انسان کو عقل اور اختیار کے ذریعے اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنی ہے۔”

۴. زندگی کا پہلا سجدہ

۱۹۸۲ء میں پروفیسر لینگ نے مسجد کا رخ کیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ قبولِ اسلام کے بعد جب انہوں نے زندگی میں پہلی بار باجماعت نماز میں اپنا ماتھا زمین پر رکھ کر سجدہ کیا، تو ان کی کیفیت ناقابلِ بیان تھی۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: "جب میرا ماتھا قالین سے چھوا تو ایک ایسا لطیف اور روح پرور سکون میری رگ و پے میں اتر گیا جس کا میں نے زندگی میں کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ مجھے لگا جیسے میں ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد بالآخر اپنے گھر پہنچ گیا ہوں۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور میں سجدے سے سر نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔”

۵. مغربی نوجوانوں کی فکری رہنمائی

پروفیسر جیفری لینگ نے قبولِ اسلام کے بعد امریکی اور مغربی نوجوانوں کے فکری و عقلی شبہات کے ازالے کے لیے انتہائی وقیع کتب لکھیں:

  • Struggling to Surrender: ان کے دہریت سے اسلام تک کے فکری سفر کی روداد۔
  • Even Angels Ask: جدید دور میں عقل، ایمان اور سائنسی سوچ کا تقابل۔
  • Losing My Religion: اسلام میں نئی نسل کو درپیش چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

۶. متلاشیانِ حق کے نام پیغام

پروفیسر لینگ فرماتے ہیں: "خدا کے وجود کی تلاش دل اور دماغ دونوں کی صداقت کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر آپ تعصب کی عینک اتار کر غیر جانبداری سے قرآن کا مطالعہ کریں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن صرف ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا آئینہ ہے۔”

📖 تمام نو مسلموں کی داستانیں ملاحظہ فرمائیں ←
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
نو مسلموں کے ایمان افروز واقعات • اردو کووریج

پروفیسر جیفری لینگ — ریاضی کے امریکی پروفیسر جو ۱۸ سال الحاد میں رہنے کے بعد قرآن کے سجدے میں گر پڑے

"میں قرآن کو چیلنج کرنے کی نیت سے پڑھ رہا تھا لیکن یوں لگا جیسے قرآن مجھے چیلنج کر رہا ہو۔ مصنف میرے ہر وسوسے کا پہلے سے جواب رکھتا تھا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ یہی حق ہے۔"

🌍 وطن: ریاستہائے متحدہ امریکہ (University of Kansas) سابقہ عقیدہ: دہریت و الحاد (Atheism - سابق کیتھولک) سال: 1982ء (سان فرانسسکو، امریکہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com/reverts