ڈیمنشیا کے ساٹھ فیصد مریض بیماری کے کسی نہ کسی مرحلے پر گھر سے نکل کر بھٹک (Wandering) جاتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے پرانے اسکول، آبائی گاؤں یا مرحوم والدین کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور چند سیکنڈوں میں سڑکوں پر گم ہو جاتے ہیں۔
گھر کے دروازوں کی اسمارٹ سیفٹی
- دروازوں کی کنڈیاں اونچی یا نیچے لگانا: ڈیمنشیا کے مریض عام طور پر آنکھوں کی سیدھ میں تالے تلاش کرتے ہیں۔ کنڈی کو دروازے کے بالکل اوپر یا نیچے منتقل کر دیں۔
- ڈور چائم اور سینسر الارم (Door Chimes): مین گیٹ اور پچھلے دروازے پر سستے وائرلیس سینسر لگائیں تاکہ جونہی دروازہ کھلے، گھر میں گھنٹی بج اٹھے۔
- دروازوں پر پردے یا کیموفلاج اسٹیکر: دروازے پر دیوار کے رنگ کا پردہ لٹکانے سے مریض کا دھیان باہر جانے سے ہٹ جاتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور شناختی انتظام
- جی پی ایس ٹریکر ڈیوائس یا اسمارٹ واچ: بزرگ کی گھڑی، جوتے کے تلوے یا بیلٹ میں چھوٹا جی پی ایس ٹریکر لگائیں جو موبائل پر ان کی لائیو لوکیشن دکھاتا رہے۔
- شناختی کڑا یا کپڑوں پر لیبل: بزرگ کے کرتے کے اندر کالر پر یا ہاتھ کے کڑے پر مریض کا نام، بیماری اور ۲ ایمرجنسی موبائل نمبر مستقل طور پر لکھوائیں۔
- محلے اور دکانداروں کو پیشگی آگاہی: قریبی کریانہ اسٹور، چوکیدار اور گلی کے لوگوں کو بزرگ کی تصویر دکھا کر بتائیں کہ اگر وہ تنہا باہر نظر آئیں تو فوراً فیملی کو کال کریں۔
