شاعری ہب / غزل / میری غربت کو دیکھ کر مسکرانے والے

میری غربت کو دیکھ کر مسکرانے والے

Meri Ghurbat ko Dekh Kar Muskurane Wale Rana

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

میری غربت کو دیکھ کر مسکرانے والے

میری ماں کی دعاؤں کا اثر تو دیکھ ذرا!

ہم نے کبھی محلوں کی تمنا نہیں کی

پر ہمارے آنگن میں ہے سکون کا سویرا دیکھ ذرا!

منورؔ قناعت اور غیرت کا یہ سفر سدا رہے گا

جس سے چمکتا ہے ہمارے ماتھے کا جھومر دیکھ ذرا!

Meri Ghurbat Ko Dekh Kar Muskurane Wale

Meri Maa Ki Duaaon Ka Asar To Dekh Zara!

Hum Ne Kabhi Mahlon Ki Tamanna Nahin Ki

Par Hamare Aangan Mein Hai Sukoon Ka Sawera Dekh Zara!

Munawwar Qana'at Aur Ghairat Ka Yeh Safar Sada Rahe Ga

Jis Se Chamakta Hai Hamare Maathe Ka Jhoomar Dekh Zara!

غزل Urdu
Comment
منور رانا
تعارفِ شاعر

منور رانا

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 26 نومبر 1952 — 14 جنوری 2024 📍

سید منور علی المعروف منورؔ رانا (26 نومبر 1952ء – 14 جنوری 2024ء) اردو غزل کی تاریخ میں 'ماں' کے موضوع پر سب سے عظیم، منفرد اور لازوال شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ رائے بریلی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے