شاعری ہب / نظم / ماں کی ممتا اور آنگن (شاہکار نظم)

ماں کی ممتا اور آنگن (شاہکار نظم)

Maa-Ki-Mamta-Nazm-Munawwar-Rana

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ماں کی ممتا وہ سایہ ہے جو تپتی دھوپ میں ابر بن جائے

جس کے قدموں تلے رب نے جنت کا راستہ بچھا دیا!

اس نے اپنی بھوک مٹا کر کھلایا ہے بچوں کو

اور اپنے آنسوؤں کو دعا کا سمندر بنا دیا!

منورؔ ماں کی محبت کا یہ قرض کبھی نہیں اتر سکتا

جس نے دنیا کے ہر دکھ کو راحت بنا دیا!

Maa Ki Mamta Woh Saaya Hai Jo Tapti Dhoop Mein Abr Ban Jaaye

Jis Ke Qadmon Tale Rab Ne Jannat Ka Raasta Bichha Diya!

Us Ne Apni Bhook Mita Kar Khilaya Hai Bachon Ko

Aur Apne Aansoon Ko Dua Ka Samundar Bana Diya!

Munawwar Maa Ki Mohabbat Ka Yeh Qarz Kabhi Nahin Utar Sakta

Jis Ne Duniya Ke Har Dukh Ko Raahat Bana Diya!

نظم Urdu
Comment
منور رانا
تعارفِ شاعر

منور رانا

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 26 نومبر 1952 — 14 جنوری 2024 📍

سید منور علی المعروف منورؔ رانا (26 نومبر 1952ء – 14 جنوری 2024ء) اردو غزل کی تاریخ میں 'ماں' کے موضوع پر سب سے عظیم، منفرد اور لازوال شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ رائے بریلی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے