ادا جعفری
Ada Jafri
Modern
22 اگست 1924-12 مارچ 2015
بدایوں / کراچی, پاکستان
عزیز جہاں المعروف اداؔ جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خاتونِ اولِ غزل' (First Lady of Urdu Poetry) اور 'بانوئے سخن' کے معتبر ترین خطاب سے یاد کی جاتی ہیں۔ آپ بدایوں (اتر پردیش، برطانوی ہند) میں پیدا ہوئیں اور اختر شیرانی و جفنگ الہ آبادی سے رہنمائی حاصل کی۔ 1950ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ 'میں ساز ڈھونڈتی رہی' شائع ہوا جو اردو زبان کی تاریخ میں کسی بھی باوقار خاتون شاعرہ کا پہلا باقاعدہ مجموعۂ کلام تھا۔ ادا جعفری نے روایتی مردانہ صنفِ غزل میں نسائی وقار، دھیمے لہجے، شائستگی، گھریلو احساسات اور جذباتی صداقت کو اس خوبصورتی سے پرویا کہ پورا ادبی افق ان کا معترف ہو گیا۔ ان کی شہرۂ آفاق غزل 'ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے / آئے تو سہی برسرِ الزام ہی آئے' اور 'غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی' اردو شاعری کے شاہکار ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance - 1987ء) اور پاکستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز 'کمالِ فن ایوارڈ' (2003ء) عطا کیا۔
حرفِ شناسائی ہی سب سے بڑا تحفہ ہے اپنا
جس نے دلوں کے فاصلوں کو محبت میں بدل دیا
Harf-e-Shanaasaayi Hi Sab Se Bada Tohfa Hai Apna
Jis Ne Dilon Ke Faaslon Ko Mohabbat Mein Badal Diya
ہم نے ہر دور میں خاموشی کو زباں دی ہے اداؔ
اور نسائی وقار کا پرچم سدا بلند رکھا ہے
Hum Ne Har Daur Mein Khamoshi Ko Zubaan Di Hai Ada
Aur Nisaayi Waqaar Ka Parcham Sada Buland Rakha Hai
شہرِ درد میں ہم نے وفا کے چراغ جلائے
تا کہ اندھیروں میں بھی امید کا سراغ مل سکے
Shahr-e-Dard Mein Hum Ne Wafa Ke Chiraagh Jalaaye
Ta Ke Andheron Mein Bhi Umeed Ka Suraagh Mil Sake
یہ زندگی تری یاد میں گزر گئی ہے سدا
جیسے چمن میں کوئی نغمہ گونجتا رہا سدا
Yeh Zindagi Teri Yaad Mein Guzar Gayi Hai Sada
Jaise Chaman Mein Koi Naghma Goonjta Raha Sada
سازِ سخن بہانہ ہے دل کے بیان کا اداؔ
ورنہ ہمیں تو شوق فقط تری دید کا تھا
Saaz-e-Sukhan Bahaana Hai Dil Ke Bayaan Ka Ada
Warnah Humein To Shauq Faqat Teri Deed Ka Tha
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی برسرِ الزام ہی آئے
Honton Pe Kabhi Un Ke Mera Naam Hi Aaye
Aaye To Sahi Bar-Sar-e-Ilzaam Hi Aaye
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر کہ ویرانے پہ کیا گزری
Ghazalan Tum To Waqif Ho Kaho Majnoon Ke Marne Ki
Deewana Mar Gaya Aakhir Ke Weerane Pe Kya گزری
میں ساز ڈھونڈتی رہی عمر بھر وفا کے لیے
کہ دل کے تاروں سے کوئی نغمہ پھوٹ سکے
Main Saaz Dhoondti Rahi Umr Bhar Wafa Ke Liye
Ke Dil Ke Taaron Se Koi Naghma Phoot Sake
