شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں خاموشی کو زباں دی ہے

ہم نے ہر دور میں خاموشی کو زباں دی ہے

Hum Ne Har Daur mein Khamoshi ko Zuban Di Ada Jafri

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں خاموشی کو زباں دی ہے اداؔ

اور نسائی وقار کا پرچم سدا بلند رکھا ہے سدا!

ہم نے دھیمے لہجے میں بھی کہی ہے سچائی

جس نے زمانے کے ہر ستم کو مات دی ہے سدا!

اداؔ بانوئے سخن کا یہ اعزاز سدا رہے گا

جس نے غزل کے گلشن کو معطر کیا ہے سدا!

Hum Ne Har Daur Mein Khamoshi Ko Zubaan Di Hai Ada

Aur Nisaayi Waqaar Ka Parcham Sada Buland Rakha Hai Sada!

Hum Ne Dheeme Lehje Mein Bhi Kahi Hai Sacchayi

Jis Ne Zamane Ke Har Sitam Ko Maat Di Hai Sada!

غزل Urdu
Comment
ادا جعفری
تعارفِ شاعر

ادا جعفری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 22 اگست 1924 — 12 مارچ 2015 📍

عزیز جہاں المعروف اداؔ جعفری (22 اگست 1924ء – 12 مارچ 2015ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خاتونِ اولِ غزل' (First Lady of Urdu Poetry) اور 'بانوئے سخن' کے معتبر ترین خطاب سے یاد کی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے