شاعری ہب / Kalam / یہ تمنا نکل جائے تو اچھا ہے

یہ تمنا نکل جائے تو اچھا ہے

Yeh Tamanna Nikal Jaaye to Achha Hai Kalam Bedam

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ تمنا نکل جائے تو اچھا ہے

مدینے میں دم نکل جائے تو اچھا ہے!

ان کے روضے کی سنہری جالیوں کے تلے

مرا یہ سر جھک جائے تو اچھا ہے!

بیدمؔ بخشش کا یہ ذریعہ بن جائے گا

جب تری دید کا مژدہ مل جائے تو اچھا ہے!

Yeh Tamanna Nikal Jaaye To Achha Hai

Madine Mein Dam Nikal Jaaye To Achha Hai!

Un Ke Rauze Ki Sunehri Jaaliyon Ke Tale

Mera Yeh Sar Jhuk Jaaye To Achha Hai!

Bedam Bakhshish Ka Yeh Zariya Ban Jaaye Ga

Jab Teri Deed Ka Muzhda Mil Jaaye To Achha Hai!

Kalam Urdu
Comment
بیدم شاہ وارثی
تعارفِ شاعر

بیدم شاہ وارثی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1876ء — 24 نومبر 1936ء 📍

سید ضامن علی المعروف حضرت بیدمؔ شاہ وارثی (1876ء – 24 نومبر 1936ء) برصغیر پاک و ہند کے سب سے مقبول، قادر الکلام اور مسحور کن نعت گو، منقبت نگار اور صوفی شاعر مانے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے