شاعری ہب / غزل / یہ بات دل سے کہوں گا ، فقط زباں سے نہیں

یہ بات دل سے کہوں گا ، فقط زباں سے نہیں

Yeh Baat Dil se Kahoon Ga, Faqat Zaban se Nahi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ بات دل سے کہوں گا ، فقط زباں سے نہیں

کوئی ملال مجھے جورِ دوستاں سے نہیں

قفس نصیب کو اب ربط گلستاں سے نہیں

زمین گل سے نہیں، شاخ آشیاں سے نہیں

ملال ہے تو عدو کی شکایتوں کا اُنہیں

وہ غم زدہ ہیں، مگر میری داستاں سے نہیں

کبھی تو آئیے دو گام چل کے بندہ نواز !

مکان دور مرا آپ کے مکاں سے نہیں

سوال وصل پہ مبہم سا یہ جواب ملا

نگاہ سے تو کہی ہاں مگر زباں سے نہیں

ہمارے سر پہ اب الزام بے رُخی کیسا

وہاں سے بات اُٹھائی گئی ، یہاں سے نہیں

Yeh baat dil se kahoon ga, faqat zaban se nahi

Koi malaal mujhe jaur-e-dostaan se nahi

Qafas naseeb ko ab rabt-e-gulistan se nahi

Zameen-e-gul se nahi, shaakh-e-aashiyaan se nahi

Malaal hai to adu ki shikayaton ka unhein

Woh gham-zada hain, magar meri dastaan se nahi

Kabhi to aaiye do gaam chal ke banda-nawaz!

Makaan door mera aap ke makaan se nahi

Sawaal-e-wasl pe mubham sa yeh jawab mila

Nigaah se to kahi haan magar zaban se nahi

Hamare sar pe ab ilzaam-e-be-rukhi kaisa

Wahan se baat uthayi gayi, yahan se nahi

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔