شاعری ہب / Kalam / یار کو ہم نے جا بجا دیکھا (لافانی صوفیانہ شاہکار کلام)

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا (لافانی صوفیانہ شاہکار کلام)

Yaar ko Hum Ne Ja Ba Ja Dekha Shah Niaz Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا

کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا!

کہیں وہ ممکن، کہیں وہ واجب

کہیں وہ شاہ اور کہیں گدا دیکھا!

کہیں وہ مسجد کا ہے امام بن بیٹھا

کہیں صنم کدے کا وہ مقتدا دیکھا!

نیازؔ بے چون و بے چگوں ہے وہ

ہر اک رنگ میں اسی کا جلوہ دیکھا!

Yaar Ko Hum Ne Ja-Ba-Ja Dekha

Kahin Zaahir Kahin Chhupa Dekha!

Kahin Woh Mumkin, Kahin Woh Waajib

Kahin Woh Shah Aur Kahin Gada Dekha!

Kahin Woh Masjid Ka Hai Imam Ban Baitha

Kahin Sanam-Kaday Ka Woh Muqtada Dekha!

Niaz Be-Choon-o-Be-Chagoon Hai Woh

Har Ik Rang Mein Usi Ka Jalwa Dekha!

Kalam Urdu
Comment
شاہ نیاز احمد بریلویؒ
تعارفِ شاعر

شاہ نیاز احمد بریلویؒ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1742ء – 1834ء 📍 بریلی شریف، برطانوی ہندوستان

حضرت شاہ نیاز احمد بریلویؒ (1742ء – 1834ء، بریلی شریف) سلسلہِ عالیہ چشتیہ قادریہ کے جلیل القدر صوفی بزرگ، ولیِ کامل اور فارسی و اردو کے بے مثل صوفی شاعر تھے۔ ان کا صوفیانہ کلام...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے