شاعری ہب / شعر / وہ ہمیں بھول بھی جائیں

وہ ہمیں بھول بھی جائیں

Woh Humein Bhool bhi Jaayein to Sher Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ ہمیں بھول بھی جائیں تو کوئی شکوہ نہیں

ہم نے تو اپنے دل کو وفا کا آئینہ بنا رکھا ہے

Woh Humein Bhool Bhi Jaayein To Koi Shikwa Nahin

Hum Ne To Apne Dil Ko Wafa Ka Aayina Bana Rakha Hai

شعر Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے