شاعری ہب / غزل / تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے

تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے

Tpsh se Miri Oqf Kshmksh Hr Tar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تپش سے میری ، وقفِ کشمکش ، ہر تارِ بستر ہے

مرا سر رنجِ بالیں ہے ، مرا تن بارِ بستر ہے

سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورُ العینِ دامن ہے

دلِ بے دست و پا افتادہ بر خور دارِ بستر ہے

خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو

فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے

Tpsh se Meri vaqf-e kshmksh Har Taar-e Bistar hai

Mara sar Ranj-e balin hai Mara tan Baar-e Bistar hai

Srshk-e sar bah Sehra dadh nor alain-e daman hai

Dil-e be dast-o-paa aftadh br khor Daar-e Bistar hai

Khosha aqbal-e rnjori ! iyadat ko tum aaye ho

Frogh-e Shama balin tala-e baidar-e Bistar hai

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے