شاعری ہب / غزل / تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے* پوچھو

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے* پوچھو

Tm Apne Shkoe ki Batin Nh Khod

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے* پوچھو

حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے

دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر

نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے

Tum Apne Shikve ki Batein na khod khod ke pochho

Hzr karo mare Dil se ke Is mein aag dbi hai

Dla yeh Dard-o-Alam bhi to mghtnm hai ke Aakhir

Na gri-e sahari hai na Aah niyam shbi hai

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے