شاعری ہب / نعت / طیبہ نگر کا سفر ہے مقدر کی بات

طیبہ نگر کا سفر ہے مقدر کی بات

Taiba Nagar ka Safar Hai Mqdr ki Baat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

طیبہ نگر کا سفر ہے مقدر کی بات

سبز گنبد کا نظارہ ہے کرم کی بات

جس در پہ جھکتے ہیں فرشتے ادب کے ساتھ

اس دربار کی چوکھٹ ہے شرف کی بات

شاہِ دوسرا کے دربار کا بھکاری ہوں میں

جس کے جود و سخا سے بنی ہے بات

محشر کے روز شفاعت کی سند ملے گی جب

عاصیوں کو بخشے گا وہ محبوبِ ذات

خالدؔ محمود نعت سناتے ہوئے دم نکلے

کہ یہی نعت بنے گی قبر کی نجات

Taiba nagar ka safar hai mqdr ki Baat

Sabz Gumbad ka nazara hai Karam ki Baat

Jis Dar pe jhkte hain Farishte adab ke saath

Is darbar ki chokht hai shrf ki Baat

Shah-e dusra ke darbar ka bhkari hoon mein

Jis ke jod-o-skha se bni hai Baat

Mahshar ke roz Shafa'at ki snd mile gi jab

Aasion ko bkhshey Ga woh Mehboob-e zat

Khald mhmod naat snatey hue dam nkley

Ke ihi naat bane gi Qabr ki njat

نعت
Comment
خالد محمود نقشبندی
تعارفِ شاعر

خالد محمود نقشبندی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1940ء – 2020ء 📍 لاہور، پاکستان

خالد محمود نقشبندی (1941ء – 2018ء، کراچی) ممتاز نعت نگار اور علمی و ادبی شخصیت تھے۔ ان کی نعت 'یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے' اور درود و...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے