شاعری ہب / نعت / طیبہ کی گلیوں کا مسافر بنوں گا میں

طیبہ کی گلیوں کا مسافر بنوں گا میں

Taiba ki Galiyon ka Musafir Bnon Ga mein

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

طیبہ کی گلیوں کا مسافر بنوں گا میں

اور روضۂ اقدس پہ جھکوں گا میں

سبز گنبد کی تجلی سے منور ہو نگاہ

اشکوں کے چراغوں کو جلاؤں گا میں

شاہِ دوسرا کے دربار کا بھکاری بن کے

اپنی جھولی کو کرم و جود سے بھروں گا میں

محشر کے تپتے دن میں شفاعت ملے گی

کالی کملی کے تلے گناہ بخشواؤں گا میں

حفیظؔ جالندھری کی التجا ہے بارگاہِ شاہ میں

کہ مدینے کی چوکھٹ پہ مروں گا میں

Taiba ki Galiyon ka Musafir bnon Ga mein

Aur rozh aqds pe jhkon Ga mein

Sabz Gumbad ki tjli se Munawwar ho Nigah

Ashkon ke Charaghon ko Jalaon Ga mein

Shah-e dusra ke darbar ka bhkari ban ke

Apni jholi ko Karam-o-jod se bhron Ga mein

Mahshar ke tptey Din mein Shafa'at mile gi

Kali kamli ke tley Gunah bkhshoaon Ga mein

Hfiz jalndhri ki altja hai bargah-e Shah mein

Ke Madine ki chokht pe mron Ga mein

نعت
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے