شاعری ہب / غزل / سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے

سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے

Skot O Khamshi Azhar Hal Be Zbani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے

کمینِ درد میں پوشیدہ رازِ شادمانی ہے

عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی

مگر رندِ قَدَح کش کا ابھی دورِ جوانی ہے

ثباتِ چند روزہ کارفرمائے غم و حسرت

اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے

Sukoot-o-khamshi izhar-e haal-e be zbani hai

Kmin-e Dard mein Poshida raaz-e shadmani hai

Ayã hain haal-o-qal-e shekh se andaz-e Dilchaspi

Magar Rind-e qdh ksh ka Abhi door-e jawani hai

Sbat-e Chand roza karfrmaee Gham-o-Hasrat

Ajal sarmaya Daar-e door-e aish-o-kamrani hai

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے