شاعری ہب / غزل / رسمِ الفت ہی اٹھ گئی شاید

رسمِ الفت ہی اٹھ گئی شاید

Rasm-e-Ulfat hi Uth Gayi Shayad Ghazal Dagh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رسمِ الفت ہی اٹھ گئی شاید

اب کوئی ہم کو یاد نہیں کرتا

ہم تو بیٹھے ہیں منتظرِ دید

پر کوئی دل کو شاد نہیں کرتا

داغؔ یہ دنیا بڑی بے درد ہے

غم کی بستی آباد نہیں کرتا

Rasm-e-Ulfat Hi Uth Gayi Shayad

Ab Koi Hum Ko Yaad Nahin Karta

Hum To Baithe Hain Muntazir-e-Deed

Par Koi Dil Ko Shaad Nahin Karta

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے