شاعری ہب / نظم / شہرِ آزر (تراشے ہوئے بتوں کا نوحہ)

شہرِ آزر (تراشے ہوئے بتوں کا نوحہ)

Shahr-e-Aazar Nazm Mustafa Zaidi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شہرِ آزر میں پتھر کے بت سجے ہیں

جن کی آنکھوں میں کوئی بینائی نہیں ہے!

لوگ ان بے جان بتوں کے آگے سجدہ ریز ہیں

اور سچی انسانیت مقتل میں تڑپ رہی ہے!

میں نے تو دل کا آئینہ ان کے سامنے رکھا

پر پتھروں کے شہر میں کوئی قدرداں نہ ملا!

Shehr-e-Aazar Mein Patthar Ke But Saje Hain

Jin Ki Aankhon Mein Koi Beenayi Nahin Hai!

Lok In Be-Jaan Buton Ke Aage Sajda-Reez Hain

Aur Sacchi Insaaniyat Maqtal Mein Tadap Rahi Hai!

نظم Urdu
Comment
سید مصطفیٰ زیدی
تعارفِ شاعر

سید مصطفیٰ زیدی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 16 اکتوبر 1930 — 12 اکتوبر 1970 📍

سید مصطفیٰ حسنین زیدی المعروف تیغ الہ آبادی (16 اکتوبر 1930ء – 12 اکتوبر 1970ء) جدید اردو ادب کے انتہائی نایاب، پرسوز اور عہد ساز شاعر اور سول سروس آف پاکستان (CSP) کے سینئر افسر...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے