سید مصطفیٰ زیدی

Mustafa Zaidi

Modern
16 اکتوبر 1930-12 اکتوبر 1970 الہ آباد / پشاور / کراچی, پاکستان
سید مصطفیٰ حسنین زیدی المعروف تیغ الہ آبادی (16 اکتوبر 1930ء – 12 اکتوبر 1970ء) جدید اردو ادب کے انتہائی نایاب، پرسوز اور عہد ساز شاعر اور سول سروس آف پاکستان (CSP) کے سینئر افسر تھے۔ آپ الہ آباد (بھارت) میں پیدا ہوئے اور ابتدائی دور میں فراق گورکھپوری اور جوش ملیح آبادی سے فیض حاصل کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے سی ایس ایس کا امتحان اعلیٰ اعزاز کے ساتھ پاس کیا اور ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ مصطفیٰ زیدی کی شاعری کلاسیکی روایات کی نفاست اور جدید حسیات کے امتزاج کا بے مثل مرقع ہے۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں میں 'روشنی' (1949ء)، 'شہرِ آزر' (1958ء)، 'موج مری صدف سمندر' (1960ء)، 'گریبان' (1964ء)، 'قبائے ساز' (1967ء) اور شاہکار مجموعہ 'کوہِ ندا' (1971ء) شامل ہیں۔ ان کا یہ شعر ضرب المثل ہے: 'میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں / تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے'۔ آپ کا مزار سخی حسن قبرستان کراچی میں ہے۔
اداس رات کے سناٹے میں چلی جب ہوا ترے فراق کا ہر اک زخم ترو تازہ ہوا
Udaas Raat Ke Sannate Mein Chali Jab Hawa Tere Firaaq Ka Har Ik Zakhm Taro Taaza Hua
تفصیل دیکھیں »
آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا دل جس سے مل گیا تھا وہی بے وفا ملا
Aandhi Chali To Naqsh-e-Kaf-e-Paa Nahin Mila Dil Jis Se Mil Gaya Tha Wohi Be-Wafa Mila
تفصیل دیکھیں »
ان کے بدن میں روح کی کوئی تڑپ نہ تھی پتھر کے بت کدے میں ہمیں کیا صلہ ملا
Un Ke Badan Mein Rooh Ki Koi Tadap Na Thi Patthar Ke But-Kade Mein Humein Kya Sila Mila
تفصیل دیکھیں »
مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں
Meri Zindagi Pe Na Muskura Mujhe Zindagi Ka Alam Nahin Jise Tere Gham Se Ho Waasta Woh Khizaan Bahaar Se Kam Nahin
تفصیل دیکھیں »
کسی اور کا وہ ہو گیا جو مرا تھا کل تلک دلِ بے خبر کی سادگی پہ روئے ہیں آج ہم
Kisi Aur Ka Woh Ho Gaya Jo Mera Tha Kal Talak Dil-e-Be-Khabar Ki Saadgi Pe Roye Hain Aaj Hum
تفصیل دیکھیں »
یہ روز و شب یہ صبح و شام کیا ہے تیرے بغیر زندگی کا نام کیا ہے
Yeh Roz-o-Shab Yeh Subh-o-Shaam Kya Hai Tere Baghair Zindagi Ka Naam Kya Hai
تفصیل دیکھیں »
تو بے وفا ہے تو کیا ہے خدا بھلا کرے تیرا ترے ستم نے ہمیں راستہ دکھا دیا
Tu Bewafa Hai To Kya Hai Khuda Bhala Kare Tera Tere Sitam Ne Humein Raasta Dikha Diya
تفصیل دیکھیں »
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
Main Kis Ke Haath Pe Apna Lahoo Talash Karoon Tamaam Shehr Ne Pehne Hue Hain Dastaane
تفصیل دیکھیں »