کسی کی یاد کے سائے میں دل کو رکھا ہے
Kisi ki Yaad ke Saaye mein Dil ko Rakha Hai Ghazal Noshi
کسی کی یاد کے سائے میں دل کو رکھا ہے
ہم نے تنہائی کو اپنا مونس و غمخوار رکھا ہے!
وہ جو چلے گئے تھے خاموش ہو کر بزم سے
ان کی خوشبو کو پلکوں کے پار رکھا ہے!
نوشیؔ وفا کے اس دیے کو بجھنے نہ دیں گے
جسے طوفانوں کے مقابل تیار رکھا ہے!
Kisi Ki Yaad Ke Saaye Mein Dil Ko Rakha Hai
Hum Ne Tanhaayi Ko Apna Moonis-o-Ghamkhaar Rakha Hai!
Woh Jo Chale Gaye The Khamosh Ho Kar Bazm Se
Un Ki Khushboo Ko Palkon Ke Paar Rakha Hai!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
نوشی گیلانی
نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...
