شاعری ہب / نظم / سنيما

سنيما

Sainema – Wohi But Farooshi Wohi But Gari Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہي بت فروشي ، وہي بت گري ہے

سنيما ہے يا صنعت آزري ہے

وہ صنعت نہ تھي ، شيوئہ کافري تھا

يہ صنعت نہيں ، شيوئہ ساحري ہے

وہ مذہب تھا اقوام عہد کہن کا

يہ تہذيب حاضر کي سوداگري ہے

وہ دنيا کي مٹي ، يہ دوزخ کي مٹي

وہ بت خانہ خاکي ، يہ خاکستري ہے

Wohi Bot Faroshi, Wohi Bot Gari Hai

Cinema Hai Ya San’at-e-Azari Hai

Woh San’at Na Thi, Shewa-e-Kafiri Tha

Ye San’at Nahin, Shewa-e-Sahiri Hai

Woh Mazhab Tha Aqwam-e-Ehd-e-Kuhan Ka

Ye Tehzeeb-e-Hazir Ki Soudagari Hai

Woh Dunya Ki Mitti, Ye Dozkh Ki Mitti

Woh Bot Khana Khaki, Ye Khakastari Hai

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔