شاعری ہب / نعت / سائے میں تمہارے ہیں قسمت یہ ہماری ہے

سائے میں تمہارے ہیں قسمت یہ ہماری ہے

Saئey mein Tumhare Hain Qismat Yeh Hamari Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سائے میں تمہارے ہیں قسمت یہ ہماری ہے

قربان دل و جاں ہیں کیا شان تمہاری ہے

کیا پیش کروں تم کو کیا چیز ہماری ہے

یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جان بھی تمہاری ہے

نقشہ تیرا دلکش ہے صورت تیری پیاری ہے

جس نے تمہیں دیکھا ہے سو جان سے واری ہے

گو لاکھ برے ہیں ہم کہلاتے تمہارے ہیں

اک نظر کرم کرنا یہ عرض ہماری ہے

ہم چھوڑ کے اس در کو جائیں تو کہاں جائیں

اک نام تمہارا ہے جو ہونٹوں پہ جاری ہے

تاجیؔ تیرے سجدے سے زاہد کو جلن کیوں ہے

قدرت نے جبیں سائی قسمت میں اتاری ہے

Saئey mein Tumhare hain qismat yeh Hamari hai

Qurban Dil-o-Jaan hain kiya šan Tumhari hai

Kiya Pesh karoon tum ko kiya ciz Hamari hai

Yeh Dil bhi Tumhara hai yeh jaan bhi Tumhari hai

Naqsha Tera dilkash hai surat Teri Pyari hai

Jis Ne Tumhein dekha hai Sau jaan se oari hai

Go Laakh Bare hain Hum khlatey Tumhare hain

Ik Nazar Karam karna yeh arz Hamari hai

Hum chhor ke Is Dar ko jaayein to kahan jaayein

Ik Naam Tumhara hai jo Honton pe Jari hai

Taji Tere Sajde se zahd ko jln kyun hai

Qudrat Ne jbin saئi qismat mein atari hai

نعت
Comment
حضرت ذہین شاہ تاجیؒ
تعارفِ شاعر

حضرت ذہین شاہ تاجیؒ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1900ء – 1978ء 📍 جے پور / کراچی، پاکستان

بابا ذہین شاہ تاجیؒ (1900ء – 23 جولائی 1978ء، جے پور / کراچی) سلسلہِ تاجی کے بانی صوفی بزرگ، فلسفی اور عظیم صوفی شاعر تھے۔ انہوں نے ابنِ عربی کی 'فصوص الحکم' کا اردو ترجمہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے