شاعری ہب / غزل / رکنے کا سمے گزر گیا ہے

رکنے کا سمے گزر گیا ہے

Rukne ka Samay Guzar Gaya Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رکنے کا سمے گزر گیا ہے

جانا ترا اب ٹھہر گیا ہے

رخصت کی گھڑی کھڑی ہے سر پر

دل کوئی دو نیم کر گیا ہے

ماتم کی فضا ہے شہر دل میں

مجھ میں کوئی شخص مر گیا ہے

بجھنے کو ہے پھر سے چشم نرگس

پھر خواب صبا بکھر گیا ہے

بس ایک نگاہ کی تھی اس نے

سارا چہرہ نکھر گیا ہے

rukane kaa samay guzar gayaa hai

jaanaa teraa ab Thahar gayaa hai

ruKhsat kii ghaDii khaDi hai sar par

dil koi donim kar gayaa hai

maatam kii fazaa hai shahar-e-dil men

mujh men koi shaKhs mar gayaa hai

bujhane ko hai phir se chashm-e-nargis

phir Khvaab-e-sabaa bikhar gayaa hai

bas ik nigaah kii thii us ne

saaraa cheharaa nikhar gayaa hai

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے