شاعری ہب / نظم / رشوت اور کلرک (سرکاری دفاتر کا کچا چٹھا)

رشوت اور کلرک (سرکاری دفاتر کا کچا چٹھا)

Rishwat aur Clerk Majeed Lahori

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دفتر میں فائلیں دھول چاٹتی رہتی ہیں

جب تک کہ کوئی چائے پانی نہ پلا دے!

کلرک کہتا ہے صاحب ابھی میٹنگ میں ہیں

کوئی نوٹ دکھاؤ تو وہ دستخط کرا دے!

قانون کی کتابیں رکھی ہیں الماری میں

اور رشوت کا ترازو سارا کام چلا دے!

مجیدؔ اس اندھیر نگری کا کیا علاج کریں

جہاں کا چوکیدار ہی گھر کو جلا دے!

Daftar Mein File-ein Dhool Chaat-ti Rehti Hain

Jab Tak Ke Koyi Chai Paani Na Pila De!

Clerk Kehta Hai Sahab Abhi Meeting Mein Hain

Koyi Note Dikhaao To Woh Dastakhat Kara De!

Qanoon Ki Kitabein Rakhi Hain Almaari Mein

Aur Rishwat Ka Taraazu Saara Kaam Chala De!

Majeed Is Andher Nagri Ka Kya Ilaaj Karein

Jahaan Ka Chowkidaar Hi Ghar Ko Jala De!

نظم Urdu
Comment
مجید لاہوری
تعارفِ شاعر

مجید لاہوری

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1913ء – 1957ء 📍 گجرات، پنجاب، برطانوی ہندوستان

عبدالمجید چغتائی المعروف 'مجید لاہوری' (1913ء – 26 جون 1957ء، گجرات / کراچی) اردو صحافت اور طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے بے باک، نڈر اور ہر دلعزیز عوامی رہنما تھے۔ انہوں نے روزنامہ 'جنگ' میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے