شاعری ہب / شعر / رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

Ragon mein Daudte Phirne ke Hum Nahin Qail

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Ragon Mein Daudte Phirne Ke Hum Nahin Qail

Jab Aankh Hi Se Na Tapka To Phir Lahoo Kya Hai

شعر
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے