شاعری ہب / حمد / نوائے سروش: جہاں میں نور تیرا ہے نہاں بھی آشکارا بھی

نوائے سروش: جہاں میں نور تیرا ہے نہاں بھی آشکارا بھی

Nawa E Suroosh Jahan mein Noor Tera Hai Nihan bhi Aashkara bhi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جہاں میں نور تیرا ہے نہاں بھی آشکارا بھی

وہی جلوہ زمیں پر ہے فلک پر بھی ستارہ بھی

تری قدرت کے جلوے دیکھتی ہے چشمِ بینا جب

پکار اٹھتی ہے دل سے تو ہی ہے مالک ہمارا بھی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Jahan mein Noor Tera hai nhan bhi ashkara bhi

Vahi Jalwa Zameen par hai Falak par bhi Sitara bhi

Tri Qudrat ke Jalwe dekhti hai Chashm-e bina jab

Pukar Uthti hai Dil se to hi hai Malik Hamara bhi

Khodi ko kar Buland Itna ke Har taqdir se Pehle

Khuda Bande se Khud pochhey bata Teri Raza kiya hai

حمد
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے