نوائے سروش: جہاں میں نور تیرا ہے نہاں بھی آشکارا بھی
Nawa E Suroosh Jahan mein Noor Tera Hai Nihan bhi Aashkara bhi
جہاں میں نور تیرا ہے نہاں بھی آشکارا بھی
وہی جلوہ زمیں پر ہے فلک پر بھی ستارہ بھی
تری قدرت کے جلوے دیکھتی ہے چشمِ بینا جب
پکار اٹھتی ہے دل سے تو ہی ہے مالک ہمارا بھی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Jahan mein Noor Tera hai nhan bhi ashkara bhi
Vahi Jalwa Zameen par hai Falak par bhi Sitara bhi
Tri Qudrat ke Jalwe dekhti hai Chashm-e bina jab
Pukar Uthti hai Dil se to hi hai Malik Hamara bhi
Khodi ko kar Buland Itna ke Har taqdir se Pehle
Khuda Bande se Khud pochhey bata Teri Raza kiya hai
علامہ اقبال
علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...
