شاعری ہب / حمد / مناجاتِ شب گاہی: اے در دلم نشستہ تو ہی دل کا قرار ہے

مناجاتِ شب گاہی: اے در دلم نشستہ تو ہی دل کا قرار ہے

Munajat E Shabgahi Aye Dar Dilam Nishasta Tu hi Dil ka Qarar Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اے در دلم نشستہ تو ہی دل کا قرار ہے

تاریکیِ شب میں ترا نور آشکار ہے

بخشا ہے تو نے سوزِ محبت مرے لہو

تیری ہی بارگاہ میں دل اشک بار ہے

اقبالؔ کو عطا کر محبت کی زندگی

کہ تیری رحمتوں پہ مرا اعتبار ہے

Aey Dar dlm nshsth to hi Dil ka qarar hai

Tariki-e shab mein tra Noor aashkar hai

Bkhsha hai to Ne soz-e Mohabbat mare lahu

Teri hi bargah mein Dil Ashk Baar hai

Aqbal ko Ata kar Mohabbat ki Zindagi

Ke Teri rhmton pe Mara iʻtibar hai

حمد
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے