شاعری ہب / نعت / نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں

نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں

Nasib Aaj Apne Jgaئey Gaye Hain

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں

در مصطفی ﷺ پر بلائے گئے ہیں

مدینے کی گلیوں میں جا کر تو دیکھو

زمیں پر ستارے بچھائے گئے ہیں

کہیں اور لٹتے ہیں ایسے خزانے

مدینے میں جیسے لٹائے گئے ہیں

ازل سے ہی تھا عرش جن کا ٹھکانہ

وہی عرش پر تو بلائے گئے ہیں

ہمارے نبی ﷺ نے بہائے جو آنسو

کسی اور سے بھی بہائے گئے ہیں

جو عشق نبی ﷺمیں بہت غمزدہ تھے

وہ کملی میں سارے چھپائے گئے ہیں

یہی ہے وہ مسرؔ ور دربار عالی

یہیں ناز اپنے اٹھائے گئے ہیں

Nasib aaj Apne jgaئey gaye hain

Dar Mustafa par blaئey gaye hain

Madine ki Galiyon mein ja kar to dekho

Zameen par Sitare bchhaئey gaye hain

Kahein aur lttey hain aise khzaney

Madine mein jaise ltaئey gaye hain

Azal se hi tha ʻarsh Jin ka thkanh

Vahi ʻarsh par to blaئey gaye hain

Hamare Nabi Ne bhaئey jo aansoo

Kisi aur se bhi bhaئey gaye hain

Jo Ishq Nabi min bahut ghmzdh the

Woh kamli mein Sare chhpaئey gaye hain

Ihi hai woh msr or darbar aali

Yahin naz Apne athaئey gaye hain

نعت
Comment
ن
تعارفِ شاعر

نامعلوم / روایتی کلام

🏛️ روایتی و کلاسیکی

وہ لازوال اور مقبولِ عام نعتیں اور سلام جن کے تخلیق کار تاریخ میں نامعلوم ہیں یا جو روایتی ثنا خوانی کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے