شاعری ہب / غزل / نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھے ہیں

نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھے ہیں

Na Jaane Kis Liye Umeed-Waar Baithe Hain Ghazal Qasmi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھے ہیں

اک آس کے سہارے سرِ راہ بیٹھے ہیں!

وہ جو چلے گئے تھے خاموش ہو کر بزم سے

ان کی خوشبو کو پلکوں پہ سجائے بیٹھے ہیں!

ندیمؔ وفا کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹ سکے گا

جس کے لیے ہم اپنی جان لٹائے بیٹھے ہیں!

Na Jaane Kis Liye Umeed-waar Baithe Hain

Ik Aas Ke Sahare Sar-e-Raah Baithe Hain!

Woh Jo Chale Gaye The Khamosh Ho Kar Bazm Se

Un Ki Khushboo Ko Palkon Pe Sajaye Baithe Hain!

غزل Urdu
Comment
احمد ندیم قاسمی
تعارفِ شاعر

احمد ندیم قاسمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 20 نومبر 1916 — 10 جولائی 2006 📍

احمد شاہ اعوان المعروف احمد ندیم قاسمیؔ (20 نومبر 1916ء – 10 جولائی 2006ء) اردو ادب کے عہد ساز شاعر، صفِ اول کے افسانہ نگار، جلیل القدر صحافی اور تاریخی ادبی جریدے 'فنون' کے مدیر...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے