نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھے ہیں
Na Jaane Kis Liye Umeed-Waar Baithe Hain Ghazal Qasmi
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھے ہیں
اک آس کے سہارے سرِ راہ بیٹھے ہیں!
وہ جو چلے گئے تھے خاموش ہو کر بزم سے
ان کی خوشبو کو پلکوں پہ سجائے بیٹھے ہیں!
ندیمؔ وفا کا یہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹ سکے گا
جس کے لیے ہم اپنی جان لٹائے بیٹھے ہیں!
Na Jaane Kis Liye Umeed-waar Baithe Hain
Ik Aas Ke Sahare Sar-e-Raah Baithe Hain!
Woh Jo Chale Gaye The Khamosh Ho Kar Bazm Se
Un Ki Khushboo Ko Palkon Pe Sajaye Baithe Hain!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
احمد ندیم قاسمی
احمد شاہ اعوان المعروف احمد ندیم قاسمیؔ (20 نومبر 1916ء – 10 جولائی 2006ء) اردو ادب کے عہد ساز شاعر، صفِ اول کے افسانہ نگار، جلیل القدر صحافی اور تاریخی ادبی جریدے 'فنون' کے مدیر...
