شاعری ہب / غزل / دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

Dil mein Ik Lehar Si Uthi Hai Abhi Ghazal Ahmad Nadeem Qasmi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی!

یاد کے بے نشان جزیروں سے

تیری آواز آ رہی ہے ابھی!

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ نہیں ندیمؔ

غم نہ کر رات تو ڈھلی ہے ابھی!

ہم نے تو اپنے دل کو سجا رکھا ہے

جب تری دید کی لڑی ہے ابھی!

Dil Mein Ik Lehar Si Uthi Hai Abhi

Koi Taaza Hawa Chali Hai Abhi!

Yaad Ke Be-Nishaan Jazeeron Se

Teri Awaaz Aa Rahi Hai Abhi!

Waqt Achha Bhi Aaye Ga Nadeem

Gham Na Kar Raat To Dhali Hai Abhi!

غزل Urdu
Comment
احمد ندیم قاسمی
تعارفِ شاعر

احمد ندیم قاسمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 20 نومبر 1916 — 10 جولائی 2006 📍

احمد شاہ اعوان المعروف احمد ندیم قاسمیؔ (20 نومبر 1916ء – 10 جولائی 2006ء) اردو ادب کے عہد ساز شاعر، صفِ اول کے افسانہ نگار، جلیل القدر صحافی اور تاریخی ادبی جریدے 'فنون' کے مدیر...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے