شاعری ہب / غزل / مطلع صاف ہے (لاجواب مزاحیہ غزل)

مطلع صاف ہے (لاجواب مزاحیہ غزل)

Matla Saaf Hai Dilaver Figar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نہ اب رنج ہے اور نہ کوئی ملال ہے

ہمارا تو مطلع ہی بالکل صاف ہے!

نہ جیب میں پیسہ نہ سر پہ کوئی چھت

یہی تو درویشی کا اصل کمال ہے!

حریفوں نے چاہا کہ نیچا دکھائیں

مگر اپنا تو ہنسنا ہی اک ڈھال ہے!

فگارؔ اس خرابی میں جینا غنیمت

کہ اب زندہ رہنا بھی جاں کا وبال ہے!

Na Ab Ranj Hai Aur Na Koyi Malaal Hai

Humaara To Matla Hi Bilkul Saaf Hai!

Na Jeb Mein Paisa Na Sar Pe Koyi Chhat

Yehi To Darweshi Ka Asal Kamaal Hai!

Hareefon Ne Chaaha Ke Neecha Dikhaayein

Magar Apna To Hansna Hi Ik Dhaal Hai!

Figar Is Kharaabi Mein Jeena Ghaneemat

Ke Ab Zinda Rehna Bhi Jaan Ka Wabaal Hai!

غزل Urdu
Comment
دلاور فگار
تعارفِ شاعر

دلاور فگار

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1929ء – 1998ء 📍 بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان

دلاور حسین المعروف 'دلاور فگار' (8 جولائی 1929ء – 25 جنوری 1998ء، بدایوں / کراچی) اردو مزاحیہ و طنزیہ شاعری کے بے تاج بادشاہ اور 'شہنشاہِ ظرافت' کے لقب سے ملقب تھے۔ انہوں نے آگرہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے