شاعری ہب / نظم / مثنوی قولِ غمگین

مثنوی قولِ غمگین

Masnavi Qaul-e-Ghamgeen Momin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہجر کی رات اور یہ دل کا اضطراب

جیسے تپتے ہوئے صحرا میں کوئی سراب!

ہم نے تو مانگا تھا وفاؤں کا صلہ فقط

پر مقدر میں لکھا تھا بس یہ عذاب!

مومنؔ حسن اور عشق کا یہ پردہ دار رشتہ

جس نے ہر عاشق کو کر دیا بے خواب!

Hijr Ki Raat Aur Yeh Dil Ka Iztiraab

Jaise Tapte Hue Sehra Mein Koi Saraab!

Hum Ne To Maanga Tha Wafaon Ka Sila Faqat

Par Muqaddar Mein Likha Tha Bas Yeh Azaab!

نظم Urdu
Comment
حکیم مومن خان مومن
تعارفِ شاعر

حکیم مومن خان مومن

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1800 — 14 مئی 1852 📍

حکیم مومن خان مومنؔ (1800ء – 14 مئی 1852ء) اردو غزل کی تاریخ کے سب سے پروقار، نازک خیال، رومان پرور اور رمز و کنایہ کے امام شاعر تھے۔ آپ دہلی میں شاہ عبد العزیز...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے