شاعری ہب / غزل / مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے

Maktabon mein Kahin Ranai-e-Afkar bhi Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے

خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے

منزل رہ رواں دور بھی دشوار بھی ہے

کوئی اس قافلہ میں قافلہ سالار بھی ہے

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و وطن

اس زمانے میں کوئی حیدر کرار بھی ہے

علم کی حد سے پرے بندۂ مومن کے لیے

لذت شوق بھی ہے نعمت دیدار بھی ہے

پیر مے خانہ یہ کہتا ہے کہ ایوان فرنگ

سست بنیاد بھی ہے آئینہ دیوار بھی ہے

Maktabon Mein Kahin Raanai-E-Afkaar Bhi Hai

Khanqahon Mein Kahin Lazzat-E-Asrar Bhi Hai

Manzil-E-Rah-Rawaan Door Bhi Dushwaar Bhi Hai

Koi Is Qaafile Mein Qaafila-Saalaar Bhi Hai

Badh Ke Khaibar Se Hai Ye Maarka-E-Deen-O-Watan

Is Zamane Mein Koi Haider-E-Karraar Bhi Hai

Ilm Ki Had Se Pare Banda-E-Momin Ke Liye

Lazzat-E-Shauq Bhi Hai Ne’mat-E-Deedaar Bhi Hai

Peer-E-May-Khaana Ye Kehta Hai Ki Aiwan-E-Farang

Sust-Buniyad Bhi Hai Aaina-Deewar Bhi Hai

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے