شاعری ہب / نعت / مدینے کا چاند روشن ہے

مدینے کا چاند روشن ہے

Madine ka Chaand Roshan Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مدینے کا چاند روشن ہے

روشن زمانہ ہے تری ہر ادا سے

تیرے دربار کی چوکھٹ ہے سلاطین کا تاج

جھولی بھرتے ہیں گدا تیری عطا سے

طیبہ کی مٹی ہے آنکھوں کا سرمہ سدا

تیرگی دور ہوئی اس کی ضیا سے

محشر میں شفاعت کی امیدیں ہیں بندھی

عاصی بچیں گے ترے دستِ دعا سے

پڑھتا ہے حفیظؔ درودِ نبی ہر گھڑی

بخشش ملے گی ترے لطف و سخا سے

Madine ka Chaand Roshan hai

Roshan zamana hai tri Har Ada se

Tere darbar ki chokht hai slatin ka taj

Jholi bhrtey hain Gada Teri Ata se

Taiba ki mitti hai Aankhon ka surma sada

Tirgi door hui Is ki Zia se

Mahshar mein Shafa'at ki amidin hain bndhi

Aasi Bachen Ge trey dast-e Dua se

Padhta hai hfiz Durood-e Nabi Har Ghadi

Bakhshish mile gi trey lut̤f-o-skha se

نعت
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے