شاعری ہب / غزل / لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

Liya Jo Us ki Nigahon Ne Jaiza Mera

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہی

تمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا

چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کر

مرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا

کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاں

وہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا

جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں

بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

عداوتوں نے مجھے اعتماد بخشا ہے

محبتوں نے تو کاٹا ہے راستہ میرا

میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح

مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوں

سنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا

Liya jo us ki nigahon ne jaiza mera

To toot toot gaya khud se rabta mera

Sama'aton mein yeh kaisi mithas ghalti rahi

Tamam umr raha talkh zaaiqa mera

Chatkh gaya hoon main apne hi haath se gir kar

Mere hi aks ne tora hai aaina mera

Kiya gaya tha kabhi mujh ko sangsar jahan

Wahin lagaya gaya hai mujassama mera

Jabhi to umr se apni ziyada lagta hoon

Bara hai mujh se kai saal tajurba mera

Adawaton ne mujhe itmad bakhsa hai

Mohabbaton ne to kaata hai rasta mera

Main apne ghar mein hoon ghar se gaye hoon ki tarah

Mere hi samne hota hai tazkira mera

Main lut gaya hoon Muzaffar hayat ke hathon

Sune gi kis ki adalat muqaddama mera

غزل Urdu
Comment
مظفر وارثی
تعارفِ شاعر

مظفر وارثی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1933ء – 2011ء 📍 میرٹھ، برطانوی ہندوستان / لاہور

محمد مظفر الدین صدیقی المعروف 'مظفر وارثی' (23 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء، میرٹھ / لاہور) اردو زبان کے عظیم ترین نعت گو، حمد نگار اور لازوال نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے دربارِ وارثیہ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے