شاعری ہب / غزل / لڑاتے ہیں نظر اُن سے جو ہوتے ہیں نظر والے

لڑاتے ہیں نظر اُن سے جو ہوتے ہیں نظر والے

Larate Hain Nazar Un se Jo Hotay Hain Nazar Walay

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

لڑاتے ہیں نظر اُن سے جو ہوتے ہیں نظر والے

محبت کرتے ہیں دنیا میں دل والے، جگر والے

ہمیں ذوقِ نظر نے کر دیا اس راز سے واقف

اشاروں میں پر کھتے ہیں زمانے کو نظر والے

کوئی تم سا نہ دیکھا، یوں تو دیکھے ہم نے دنیا میں

بہت جادو نظر والے ، بہت جادو اثر والے

تمہاری انجمن میں اور کس کو حوصلہ یہ ہے

وہی دل پیش کرتے ہیں جو ہوتے ہیں جگر والے

سب اپنے اپنے زندانِ ہوس کے مستقل قیدی

زمین والے ، یہ زر والے ، یہ در والے ، یہ گھر والے

ہنر مندانِ الفت ہیں بہت کم اس زمانے میں

جہاں میں یوں تو لاکھوں ہم نے دیکھے ہیں ہنر والے

نصیر اُن کی طرف سے یہ ہمیں تاکید ہوتی ہے

سنبھل کر بیٹھیئے محفل میں بیٹھے ہیں نظر والے

Larate hain nazar un se jo hotay hain nazar walay

Mohabbat kartay hain duniya mein dil walay, jigar walay

Hamein zauq-e-nazar ne kar diya is raaz se waqif

Isharon mein parakhtay hain zamane ko nazar walay

Koi tum sa na dekha, yun to dekhay hum ne duniya mein

Bohat jadoo nazar walay, bohat jadoo asar walay

Tumhari anjuman mein aur kis ko hosla yeh hai

Wohi dil paish kartay hain jo hotay hain jigar walay

Sab apne apne zindan-e-hawas ke mustaqil qaidi

Zameen walay, yeh zar walay, yeh dar walay, yeh ghar walay

Hunar-mandaan-e-ulfat hain bohat kam is zamane mein

Jahan mein yun to laakhon hum ne dekhay hain hunar walay

Naseer un ki taraf se yeh hamein takeed hoti hai

Sambhal kar baithiye mehfil mein bethay hain nazar walay

غزل Urdu
Comment
پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ
تعارفِ شاعر

پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1949ء – 2009ء 📍 گولڑہ شریف، اسلام آباد، پاکستان

سید پیر نصیر الدین نصیر گیلانیؒ (14 نومبر 1949ء – 13 فروری 2009ء، گولڑہ شریف، اسلام آباد) خانقاہِ عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، عظیم صوفی بزرگ، محقق اور قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ حضرت...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔