شاعری ہب / نظم / لاوالا

لاوالا

Laavaalaa – Faza-e-Noor Main Krta na Shakh-o-Barg W Bar Peda

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

فضائے نور ميں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پيدا

سفر خاکي شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ

نہاد زندگي ميں ابتدا 'لا' ، انتہا 'الا'

پيام موت ہے جب 'لا ہوا الا' سے بيگانہ

وہ ملت روح جس کي 'لا 'سے آگے بڑھ نہيں سکتي

يقيں جانو، ہوا لبريز اس ملت کا پيمانہ

Fzae Noor mn karta na Shaakh-o-brg-o-br pda

Safar khak Shabistan se na kar skta Agar daana

Nihad zndg mn ibtida La intiha ala

Pam Maut hai jab La hua ala se bganh

Woh mlt Rooh Jis k La se aage brh nhn skt

Qn jano hua lbrz Is mlt ka pmanh

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے