شاعری ہب / غزل / کسی کے ہجر میں آنکھوں کا روپ بدلا ہے

کسی کے ہجر میں آنکھوں کا روپ بدلا ہے

Kisi ke Hijr mein Aankhon ka Roop Badla Hai Ghazal Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کسی کے ہجر میں آنکھوں کا روپ بدلا ہے

مرے وجود کا سارا ہی دھوپ بدلا ہے

ہم نے تو چاہا تھا بادل کی طرح برسنا

پر ترے شہر کا سارا اسلوب بدلا ہے

امجدؔ اب کون سنے گا وفا کا یہ نغمہ

جب زمانے کا ہر اک محبوب بدلا ہے

Kisi Ke Hijr Mein Aankhon Ka Roop Badla Hai

Mere Wajood Ka Saara Hi Dhoop Badla Hai

Hum Ne To Chaaha Tha Baadal Ki Tarah Barasna

Par Tere Shehr Ka Saara Usloob Badla Hai

غزل
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔