شاعری ہب / غزل / جو رات باقی ہے وہ بات باقی ہے

جو رات باقی ہے وہ بات باقی ہے

Jo Raat Baaqi Hai Woh Baat Baaqi Hai Ghazal Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جو رات باقی ہے وہ بات باقی ہے

مرے سینے میں وہ حسیں رات باقی ہے

وہ جو چلے گئے تھے خاموشی سے بزم سے

ان کی نظروں کی وہ برسات باقی ہے

امجدؔ وفا کا یہ نغمہ سدا گونجے گا

جب تک یہ دشت و حیات باقی ہے

Jo Raat Baaqi Hai Woh Baat Baaqi Hai

Mere Seene Mein Woh Haseen Raat Baaqi Hai

Woh Jo Chale Gaye The Khamoshi Se Bazm Se

Un Ki Nazron Ki Woh Barsaat Baaqi Hai

غزل
Comment
امجد اسلام امجد
تعارفِ شاعر

امجد اسلام امجد

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 4 اگست 1944 — 10 فروری 2023 📍 لاہور، پاکستان

امجد اسلام امجد (4 اگست 1944ء – 10 فروری 2023ء) عصرِ حاضر کے انتہائی مقبول، صاحبِ طرز اور دلوں پر راج کرنے والے عظیم اردو شاعر، ڈرامہ نگار اور کالم نگار تھے۔ آپ لاہور میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے